’پاکستان میں 15 لاکھ بچے بینائی سے محروم ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری بن گیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں الشفا آئی ٹرسٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں نو کروڑ بچوں میں سے 15 لاکھ بچے بینائی سے محروم ہیں۔

پاکستان کے آنکھوں کے سب سے بڑے ہسپتال کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد جاوید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بچوں کو نہیں معلوم ہوتا کہ ان کو بینائی کا مرض ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق الشفا آئی ٹرسٹ کے صدر کا کہنا ہے کہ پرائمری سکول جانے والے لاکھوں بچے بینائی کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ 60 فیصد بچے بینائی کھونے کے دو سال ہی میں مر جاتے ہیں۔

انھوں نے زور دیا کہ اس بارے میں فوری اقدامات لیے جانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری بن گیا ہے۔ تاہم صوبوں کے رواں سال کے بجٹ میں صحت کے لیے مختص کی گئی رقم زیادہ نہیں ہے۔

صوبہ پنجاب نے رواں سال کے بجٹ میں محض 31 بلین روپے مختص کیے ہیں جو کہ کُل بجٹ کا 2.68 فیصد ہے۔

ایک طرف صحت کے لیے 31 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں تو اتنی ہی رقم اپنا روزگار سکیم کے لیے بھی مختص کی گئی ہے۔

اسی طرح صوبہ سندھ نے صحت کے لیے 64 بلین روپے مختص کیے ہیں جو کہ کُل بجٹ کا تقریباً سات فیصد ہے۔

بلوچستان نے 15.5 بلین روپے ہیلتھ اور سروسز کے لیے مختص کیے ہیں جو کُل صوبائی بجٹ کا 6.3 فیصد ہے۔

خیبر پختونخوا میں بھی مختص کی گئی رقم کی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ صوبے نے صحت کے لیے 35 بلین روپے مختص کیے ہیں جو کہ کُل بجٹ کا سات فیصد ہے۔