اسلام آباد میں نجی سکولوں کی فیس اور ’اضافی چارجز‘ کے خلاف مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ احتجاجی مظاہرہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے کیا گیا

اسلام آباد میں مختلف نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے سکولوں میں ماہانہ فیسوں اور مختلف مدوں میں اضافی اخراجات کے خلاف پیرنٹس ایسوسی ایشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان اتوار کو سکولوں کی جانب سے ماہانہ فیسوں اور مختلف مدوں میں اضافی اخراجات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا گیا۔

یہ احتجاجی مظاہرہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے کیا گیا جس میں والدین کے ساتھ ساتھ بچوں نے بھی حصہ لیا۔

مظاہرین کی نمائندہ عالیہ آغا نے پیرنٹس ایسوسی ایشن کے قیام کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی اردو کے طاہر عمران کو بتایا کہ ’سرکاری حکام نے بھی ہمیں یہ کہا ہے کہ پیرنٹس ایسوسی ایشن بنائیں۔‘

مظاہرے میں شریک مسز سبین نے کہا کہ ’ والدین سے سکول کی انتظامیہ دس سال پرانی کتابوں کے لیے 20 ہزار چارج کرتی ہے۔دس نوٹ بکس اور ان پرانی کتابوں کے زیادہ زیادہ پانچ ہزار روپے چارج ہونا چاہیے۔ ہمارے بچوں سے کہا جاتا ہے کہ ان کتابوں پر کچھ نہیں لکھنا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سکول والے سمجھ رہے تھے کہ والدین اس بار بھی خاموشی سے اس اضافے کو برداشت کر لیں گے۔‘

’اس کے علاوہ فیس میں بھی تقریباً 25 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘

مظاہرے میں شامل ایک اور خاتون مسز افتخار نے کہا کہ فیس کے علاوہ بہت سے چارجز ہیں جو والدین سے لیے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مظاہروں میں شرکت کرنے سے قبل والدین نے سکول انتظامیہ سے بات کی تھی۔

’سکول انتظامیہ نے ہمیں کہا تھا کہ مسابقتی کمیشن اس بارے میں جانچ پڑتال کر رہا ہے اور جب تک ان کا فیصلہ نہیں آ جاتا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘