ملتان میں بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ

Image caption ایس پی کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ سڑک پر دو ضرب دو کا گڑھا پڑ گیا

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام نے ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی ہے، تاہم ملتان کے نشتر ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں سات افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا جب کہ 3 افراد ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق 60 سے زائد زخمی بھی ہسپتال میں لائے گئے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔

ہسپتال کے ذرائع کے مطابق اکثر زخمیوں کو ’ڈی گلوِنگ‘ قسم کے زخم آئے ہیں جس میں جسم سے جلد پھٹ کر اتر جاتی ہے۔

ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے خون کے عطیات کی درخواست کی ہے۔

سپرنٹینڈنٹ پولیس خالد روف کے مطابق بم والا بیگ یا تو گاڑی میں رکھا جا رہا تھا یا رکھا جا چکا تھا، اس لیے کہ جائے وقوعہ سے ایک لاش ملی ہے جو آدھی اڑی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ سڑک پر دو ضرب دو فٹ کا گڑھا پڑ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں اس میں دس سے 15 کلوگرام باردوی مواد استعمال کیا گیا ہے۔ ہمارے ڈی سی او اور آر پی اور نشتر ہسپتال میں موجود ہیں۔‘

ملتان بم دھماکے کی ذمہ داری یونائٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کر لی ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ہمارے نامہ نگار عدیل اکرم نے سٹی پولیس آفیسر اظہر اقبال کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ دھماکہ وہاڑی چوک میں ہوا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ برآمد ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ریجنل پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ فورینسک ٹیسٹ کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ یہ دھماکہ کس نوعیت کا ہے۔

جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے وہاں بسوں کا اڈا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے جب کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں