ٹانک امن کمیٹی کے رضاکار ہلاک

پاکستان: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں سکیورٹی اور امن کمیٹی کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں طالبان مخالف امن کمیٹیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعہ میں ضلع ٹانک میں مسلح افراد نے امن کمیٹی کے ایک رضاکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب قبائلی علاقے ایف آر ٹانک کے قریب واقع ایک نواحی گاؤں عمر میں پیش آیا۔

ٹانک پولیس کے ایک اہلکار شیر افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی وردیوں میں ملبوس چند مسلح افراد نے امن کمیٹی کے ایک رضاکار رفیع اللہ کے گھرمیں گھس کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ مسلح افراد مقتول کے ایک بھائی محمد خان کو بھی اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے تاہم بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق مقتول رفیع اللہ چند دن پہلے دبئی سے پاکستان آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مقتول کچھ عرصہ پہلے تک ٹانک میں طالبان محالف سرگرمیوں میں سرگرم رہے تھے تاہم بعد میں وہ محنت مزدوری کےلیے خلیجی ملک دبئی چلے گئے تھے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دبئی جانے سے پہلے وہ امن کمیٹی چھوڑ چکے تھے یا نہیں۔ پولیس اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ مقتول کی خاندانی دشمنیاں بھی تھیں تاہم ان کے ورثاء کی طرف سے ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں گزشتہ چند ہفتوں سے امن کمیٹیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل باجوڑ، مہمند اور کرم ایجنسی میں بھی حکومتی حامی قبائلی مشران پر متعدد حملے کئے گئے تھے جس میں ایک درجن کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب ہر طرف شدت پسند تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں