قلعہ سیف اللہ سے پانچ سرکاری ملازمین اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلع آواران میں سکیورٹی فورسز نے دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے سات افراد کو اغوا ہوگئے ہیں جبکہ ضلع خصدار میں اسسٹنٹ کمیشنر کے قافلے پر حملے میں ایک لیویز اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پانچ ملازمین کو پیر کے روز افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ سیف سے اغوا کیا گیا۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ بی ڈی اے کے ملازمین ایک ٹھیکیدار کے ہمراہ ایک ترقیاتی پراجیکٹ کے سلسلے میں مرغہ فقیرزئی گئے تھے۔ جہاں انھیں نامعلوم مسلح افراد نے ٹھیکیدار کے ہمراہ اغوا کیا اور نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

اغوا ہونے والوں میں بی ڈی اے کے تین آفسر بھی شامل ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے پہلے بھی اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔

اس سال کے اوائل میں کوئٹہ اور ژوب کے درمیان سفر کرنے والے دس سے زائد مسافروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

اغوا کا دوسرا واقعہ سرحدی شہر چمن میں پیش آیا جہاں سے ایک ہندو تاجر کو اغوا کر لیا گیا۔

چمن پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہندو تاجر کو گذشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے چمن شہر سے اغوا کیا۔

تاحال اغوا کے دونوں واقعات کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔

دوسری جانب ضلع آواران میں سکیورٹی فورسز نے دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر ضلع خضدار میں انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ گریشہ میں بدرنگ کے علاقے سے اسسٹنٹ کمشنر نال کا قافلہ گزررہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے اس پر حملہ کیا۔

اس حملے میں اسسٹنٹ کمشنر محفوظ رہے تاہم قافلے میں شامل لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

اسسٹنٹ کمشنر کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں تین دھماکے ہوئے۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ دھماکے تین راکٹ فائر کرنے کی وجہ سے ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا نشانہ سکیورٹی فورسز تھیں۔

اسی بارے میں