شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا حملہ، ایک میجر ہلاک

Image caption سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں ایک فوجی اور پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کی شام شمالی وزیرستان کی تحصیل سپین وام کے پاک افغان سرحدی علاقے ڈنڈے کچ کے مقام پر پیش آیا۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق مسلح شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جس میں میجر اسماعیل نامی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

تاہم جوابی کاروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے لیکن ابھی تک فوج کی جانب سے اس حملے کےضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ وادی شوال کے علاقے میں کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کی طرف سے حملہ کیاگیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کاروائی کی گئی جس میں 14 شدت پسند مارے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری خالد سجنا گروپ کے محسود طالبان کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال فوج کی جانب سے عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے90 فی صد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم پاک افغان سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان علاقوں میں فوج کی جانب سے حالیہ دنوں میں زمینی کاروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے جس کے بعد سے شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں