پاکستان میں کسانوں کے لیے مالی مراعات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کسانوں کے لیے پیکیج کا اعلان اسلام آباد میں کسان کانفرنس میں کیا گیا (فائل فوٹو)

کسانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ان کی طرف سے کئی مظاہروں کے بعد منگل کو وزیراعظم میاں نواز شریف نے کاشت کاروں کو 340 ارب سے زائد روپے کی مراعات کا اعلان کیا ہے۔

ان مراعات میں سے بیشتر وفاقی وزیر خزانہ کی گذشتہ بجٹ تقریر میں شامل تھیں لیکن ان میں بعض نئے اعلانات بھی شامل ہیں جن میں سے ایک چاول اور کپاس کی فصلوں کو بارشوں اور عالمی منڈی میں ان فصلوں کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسانوں کو ہونے والے نقصان کے ازالے سے متعلق ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد اسلام آباد ہی میں منعقدہ کسانوں کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے اس بارے میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے چاول اور کپاس کے کاشت کاروں کو فی ایکڑ پانچ ہزار روپے مالی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’چاول اور کپاس کے کاشت کار بہترین فصل کے باوجود غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں ان فصلوں کی قیمتیں گرنے سے برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ نئی فصل کی آمد پر کسانوں کو اپنی فصل کی فروخت میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ ادا کی جائے۔ یہ ادائیگی 12 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو کی جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption پاکستان کو ایک زرعی ملک کہا جاتا ہے اور اس کی معیشت کا دار و مدار زراعت پر ہے

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کسانوں کے زیادہ منافع دینے کے لیے فصلوں کی پیدواری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے کھاد کی قیمت کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’کسانوں کی بنیادی ضرورت کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے لیے حکومت 20 ارب روپے کا فنڈ قائم کر رہی ہے جس میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں برابر کی حصے دار ہوں گی۔ اس فنڈ کے ذریعے پوٹاشیم اور فاسفیٹ کھاد کی قیمتوں میں فی بوری کم از کم پانچ سو روپے کمی واقع ہو جائے گی۔‘

کسانوں کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے اس پیکیج میں زرعی مشینری کی قیمت بھی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان کی تفصیل بتاتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں زرعی مشینری کی درآمد کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی شرح 43 فیصد بن جاتی ہے۔ موجودہ مالی سال میں زرعی مشینری کی درآمد پر تمام محصولات کو کم کر کے نو فیصد کی شرح کر دی گئی ہے۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں اس پیکیج کی مزید تفصیل بتائی جس کا اعلان وزیر خزانہ اس سال پیش کیے گئے اپنے بجٹ میں پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ان میں چھوٹے کسانوں کی فصلوں کی مفت انشورنس، سرکار کی ضمانت پر کاشت کاروں کے لیے چھوٹے قرضوں کا اجرا، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لیے مالی امداد اور زرعی مشینری پر ٹیکس چھوٹ شامل ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اس زرعی پیکیج سے پاکستان کے چھوٹے کسانوں کو 147 ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہو گا، جب کہ زرعی شعبے کو 194 ارب روپے کے اضافی قرضے میسر آ سکیں گے۔ یعنی زرعی شعبے کو کل 341 ارب روپے کے قرضے میسر آ سکیں گے۔

اسی بارے میں