کسان پیکیج کی درپردہ سیاست

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بین الاقوامی منڈیوں میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی کسانوں کے لیے 341 ارب روپے مالیت کے کسان پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کسانوں کو مالیاتی تعاون، سستے قرضے اور کھاد پر سبسڈی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کھاد کی فی بوری 500 روپے کم کی گئی ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کی افرادی قوت 43 فیصد زراعت سے وابستہ ہے اگرچہ زرعی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ زرعی شعبے سے وابستہ افراد پر اثرانداز ہوتا ہے۔

گذشتہ کچھ ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے کسان حکومت سے مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور گذشتہ ماہ اگست میں کسانوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان کسان اتحاد نے لاہور میں کئی دن تک پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا۔

اُن کا مطالبہ تھا کہ اجناس کی قیمتیں مارکیٹ میں اتنی کم ہو گئی ہیں کہ اُن کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی ہے۔

حکومت سے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر کسانوں نے اپنا احتجاج ختم کیا اور اب حکومت نے سرکاری سطح پر کسانوں کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کسان اتحاد نامی کسانوں کی تنظیم کے صدر چوہدری انور نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک کاغذی پیکیج ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ حکومت کیسے ساڑھے 12 ایکٹر زرعی اراضی والے کاشت کاروں کو فی ایکڑ 5000 روپے کیش گرانٹ دے گی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سیلاب اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں چاول اور کپاس کی فصلوں کو نقصان ہوا ہے اور چاول اور کپاس کے کاشت کاروں کو حکومت 5000 روپے فی ایکڑ کیش گرانٹ دے گی۔

چوہدری انور کا کہنا تھا کہ ’ملک میں پٹواری سسٹم ہے، وہ پہلے زمین کی پیمائش ریکارڈ کرے گا اور ہمیں اُسے پہلے رقم دینا پڑے گی اور یہ بھی نہیں ہے کہ حکومت کی جانب سے چیک ملیں گی بھی یا صرف اخبارات میں اشتہار دیکھنے کو ملیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

انھوں نے کہا کہ کسان حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت مارکیٹ میں خود آ کر کپاس اور چاول کی خریداری کرے تاکہ مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں استحکام آئے۔

فوڈ سکیورٹی پر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس پیکیج کے ذریعے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف نندی پور پاور پلانٹ میں نااہلی اور الیکشن کمیشن میں تین فیصلے حکومت کے خلاف آنے سے مسلم لیگ ن کی حکومت دباؤ میں ہے۔

’کوئی بھی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہ دیہاتوں میں اپنے ووٹ بینک کو ضائع کرے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد ایک مضبوط تنظیم کے طور پر ابھری ہے اور اُس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے، دوسری طرف تحریک انصاف کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو اس پیکیج کے ذریعے حکومت سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کے کسان پیکیج سے زراعت کو کیا فائدہ ہو گا؟ اس حوالے سے ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ جو اعلان کیے گئے ہیں اُن پر عمل درآمد کیسے کروایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

’بارش سے کس کو اور کتنا نقصان ہوا ہے۔ یہ رقم کیسے اور کب تقسیم کی جائے گی؟ رقوم چیک کب تک ملیں گے، طریقہ کار کیا ہو گا یا پھر یہ چیک ملیں گے ہی نہیں یا پھر اس کے عوض رقم نہیں ملے گی؟ جیسے کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بعض ریلیف پیکیج محض اعلانات تک محدود رہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر تو حکومتی پیکیج پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو اس سے زراعت کو فائدہ ہو گا نہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پاکستان کی خام ملکی پیدوار کا 21 فیصد زراعت پر منحصر ہے لیکن گذشتہ کئی برسوں سے قدرتی آفات، سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے زرعی پیدوار کم ہوئی ہے۔ مالی سال 2013-2014 کے دوران زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.9 فیصد رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں بدانتظامی کے سبب ترقی نہیں ہو پا رہی۔ پاکستان میں کبھی گندم کی قلت ہو جاتی ہے تو کبھی بمپر فصل سرکاری گوداموں میں پڑے پڑے سڑ جاتی ہے اور صحرائی علاقے تھر میں کئی بچے غذائی قلت کے سبب موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی منڈیوں میں اجناس کی قیمت کم ہوئی ہے۔

پاکستان کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ باسمتی چاول کاشت کی فی من لاگت 1700 روپے ہے لیکن مارکیٹ میں باسمتی چاول 900 سے ایک ہزار روپے فی من میں فروخت ہو رہا ہے۔ کپاس کی قیمتوں میں بھی کمی ہو رہی ہے اور مارکیٹ میں فی من کپاس 2000 ہزار روپے فی من میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ کپاس کی فی من پیداواری لاگت 2980 روپے ہے۔

کسان تنظیم کے صدر چوہدری انور نے کہا کہ ’حالات ایسے ہی رہے تو کسان اگلے موسم میں فصل کاشت نہیں کریں گے، ہم اپنے پاس سے مزید پیسے نہیں لگا سکتے۔‘

حکومت نے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے زرعی پیکیج کا اعلان تو کیا ہے لیکن زراعت کے شعبے میں ترقی تبھی ممکن ہے جب اس پر عمل درآمد کو آسان اور یقینی بنا کر چھوٹے کسانوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔

اسی بارے میں