سندھ میں اسلحے کے چھ لاکھ لائسینس منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صوبہ سندھ میں اسلحے کے دس لاکھ لائسینس تھے جن میں صرف چار لاکھ لائسینسوں کی نادار سے رجسٹریشن کرائی گئی ہے: حکومت

پاکستان کے صوبہ سندھ میں اسلحے کے چھ لاکھ لائسینس منسوخ کردیے گئے ہیں جبکہ نجی کمپنیوں کے محافظوں کے لیے پولیس کی تربیت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

کراچی میں منگل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی، وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور وزیر اطلاعات نثار کھوڑو نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر اطلاعات نثار کھوڑ نے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ صوبے میں اسلحے کے دس لاکھ لائسینس تھے جن میں صرف چار لاکھ لائسینسوں کی نادار سے رجسٹریشن کرائی گئی ہے۔ مقررہ تاریخ ختم ہونے کے بعد چھ لاکھ لائسینس منسوخ کردیے گئے ہیں اور محکمہ داخلہ اور پولیس کو لائسینس مالکان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

وفاقی سرکار کے بعد سندھ حکومت نے بھی تمام مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی دوبارہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے اور کہا کہ ان تنظیمیوں کی کارکردگی اور مالی معاملات کی نگرانی کی جائے گی۔ ان این جی اوز کی رجسٹریشن اور دیگر معاملات کا ریکارڈ قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا جبکہ بین الاقوامی این جی اوز کے لیے سیکیورٹی کلیئرینس لینا لازمی ہوگا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نثار کھوڑو نے میڈیا کو بتایا کہ صوبے میں 9590 مدارس موجود ہیں جن میں سے 6500 کو رجسٹرڈ کرلیا گیا ہے۔

’اب مدارس کا آڈٹ بھی کیا جائے گا اس کے علاوہ ان مدارس میں زیر تعیم طلبہ کی الگ سے یونیفارم ہوگی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں کالعدم تنظیموں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ وہ اس عمل کا حصہ نہ بنیں۔

عید کے موقعے پر بھی کالعدم تنظیموں پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی ہوگی۔ جن تنظیموں اور اداروں کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت ہوگی وہ بھی اس بات کا تحریری حلف نامہ دیں گی کہ اس رقم کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔

حکومت نے غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کی گاڑیوں کو بلٹ پروف کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے، صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اب صرف مجاز کمپنیاں بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں بنا سکیں گی اور ان کمپنیوں کو صوبائی اور وفاقی حکومت سے اجازت حاصل ہوگی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں مجموعی طور پر 217 نجی سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن کی رجسٹریشن اور سکیورٹی کلیئرینس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

صوبائی وزیر نثار کھوڑو کے مطابق ان کمپنیوں کو پابند بنایا جائے گا کہ ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے گارڈز کو معاوضے کی ادائیگی ہو۔ یہ بھی بتایا گیا کہ مستقبل میں ان کمپنیوں کے گارڈز کو پولیس تربیت فراہم کرے گی اور کمپنی کے مالکان پولیس کو معاوضہ ادا کریں گے۔