جنوبی وزیرستان میں دھماکہ، چھ سکیورٹی اہلکار زخمی

Image caption اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے (فائل فوٹو)

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر وانا میں بائی پاس روڈ پر آج صبح سات بجے پیش آیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے سڑک کے کنارے دیسی ساختہ بم نصب کیا تھا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب سیکیورٹی فورسز کے ہلکار وہاں سے گزر رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے ۔ وانا بازار بند کر دیا گیا ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

جنوبی وزیرستان میں کچھ دنوں سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے ۔ چند روز پہلے جنوبی وزیرستان کی سرحد میں واقع علاقے شوال میں شدت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی تھی جس میں 14 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح شمالی وزیرستان میں بھی حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ اتوار کے روز سپین وام کے علاقے میں شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں فوج کے ایک آرمی میجر ہلاک ہو گیا تھا جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق تقریباً ساڑھے تین ہزار شدت پسند مارے جا چکے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے تین سو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان کا بیشتر علاقہ شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا اور اب آخری مرحلے کی کارروائی دور افتادہ علاقے شوال میں جاری ہے ۔

اسی بارے میں