پرائیوٹ سکولوں کی فیسوں کے خلاف والدین کا احتجاج

Image caption بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کی من مانی ختم کی جائے

پاکستان کے مختلف بڑے شہروں کی طرح کراچی میں بھی والدین نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے پر سراپا احتجاج ہیں۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیسوں میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ کرنے والے سکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

نجی سکولوں میں فیسوں میں اضافے پر کراچی پریس کلب پر والدین نے آج ایک بار پھرمظاہرہ کیا۔ مظاہرین میں شامل ایک والدہ کرن افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک بچے کی فیس بائیس ہزار سے بڑھا کہ تیس ہزار کردی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’معیاری تعلیم کےلیے ہم اتنا بھتہ نہیں دے سکتے۔ فیس اتنی ہونی چاہیے کہ ہر کوئی اسے برداشت کرسکے۔میرے خیال میں یہاں طبقاتی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ مڈل کلاس کے بچے ان سکولوں کا رخ ہی نہ کرسکیں۔اچھی تعلیم ہمارے بچوں کا بھی حق ہے۔ یا تو حکومت اس اضافے پر ایکشن لے یا پھر سرکاری سکولوں کا معیار اتنا اچھا کردے کہ ہم اپنے بچوں کو اُن سکولوں میں ڈال دیں۔‘

احتجاج کرنے والی ایک اور خاتون نےبتایا کہ ’اس سال سکولوں نے یوٹیلیٹی کے نام پر جون جولائی کی فیس میں جنیریٹراور اے سی چارجز سمیت سکیورٹی اور پلاٹ کے چارجز بھی وصول کئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم تو پہلے ہی حکومت کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔خدارا ہم پہ کچھ رحم کریں۔ ہم تنخواہ پیشہ مڈل کلاس لوگ ہیں۔اگرساری تنخواہ اُٹھا کے انہیں دے دیں گے تو ہم کیا کریں گے۔‘

ایک اور خاتون مغربی ممالک میں نظام ِ تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’باہر دیکھیں کہ باہر ساری تعلیم مفت ہوتی ہے لیکن یہاں دیکھیں تو ہماری ساری کھال تعلیم کے اخراجات میں اتر جاتی ہے ۔پہلے کہا کہ دس فیصد فیس بڑھائیں گے اب کہتے ہیں کہ پندرہ سے بیس فیصد۔‘

احتجاج میں شریک والدین کا کہنا تھا کہ ’پندرہ سے بیس فیصد بہت زیادہ ہے اور لوگوں کا ایک بچہ نہیں ہے۔ تقریباً سب کے تین سے چار بچے سکول میں ہیں اور سالانہ اندازہ لگایا جائِے تو ایک بچے کی کم از کم فیس ڈھائی لاکھ بنتی ہے جو ہماری استعداد سے باہر ہوتی جا رہی ہےجو ہم ادا نہیں کر پا رہے۔‘

Image caption بچوں کے والدین نے بتایا کہ ان کی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں صرف ہوتا ہے جس کے حوالے سے انہوں نے الزام لگایا کہ اس کا سکول مالکان ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں

سکولوں میں مختلف عطیات کے نام پر لی جانے والی رقم کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور والد نے بتایا کہ ’ کبھی فلڈ ریلیف اور کبھی کسی اور چیرٹی کے نام پر لاکھوں کروڑوں روپےکےعطیات جمع کئے جاتے ہیں۔ہمارے پاس نئی کاپیاں پڑی ہوتی ہیں لیکن ہر سال ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ آپ ان کی نئی کاپیاں خریدیں اور اس کے پیسے بھی فیس میں کاٹ لیتے ہیں۔‘

توفیق احمد نامی ایک والد نےمطالبہ کیا کہ بھاری بھر کم فیسوں کو معیار بنانے کے بجائے تعلیم کو معیاری بنایا جائے۔ انھوں نے بتایا’میرے بیٹے کی سکول فیس اکیس ہزار تھی لیکن اس مرتبہ کا چالا ن 35 ہزار آیا ہے جو دیکھ کر میرے پیروں سے زمین ہی نکل گئی ہے۔ دو چار ہزار بڑھا دیں تو افورڈ ایبل ہے۔ ادائیگی کے لیے وقت بھی بہت کم دیاہے۔ اوپر سے بکرا عید سر پر ہے بچے کہہ رے ہیں کہ جانور بھی لینا ہے۔ اب کیا کریں؟۔‘

آج کراچی پریس کلب پر مظاہرے میں شریک والدین نے ’فیسوں میں اضافہ نامنظور، بھتہ مافیا نامنظور‘ اور ’پرائیویٹ سکولوں کی غنڈہ گردی ، نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ اجتجاج اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت اس مسئلہ کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیتی۔

دوسری جانب وزیرِتعلیم سندھ نثار کھوڑو نے نجی سکولوں میں فیس کے اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے کل نجی سکولوں کی انتظامیہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ایک اعلامیے میں انھوں نے کہا ہے کہ اجلاس میں سکولوں کی رجسٹریشن پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا۔انھوں نے کہاکہ تین سے چار ماہ کی ایڈوانس فیس کی وصولی اورٹیکسوں میں اضافے پرسکولوں کی فیس میں اضافے کا جواز قبول نہیں کیا جائے گا۔

بیان کےمطابق اضافی فیس کی وصولی پر بعض سکولوں کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں والدین کے شدیداحتجاج کے بعد کل وزیراعظم نواز شریف نے بھی نجی سکولوں کی فیسوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لیا اوراس مسئلے سے نمٹنے کے لیے احکامات دیئے کہ بلاتاخیر پرائیویٹ اسکولز ریگیولیٹری اتھارٹی کو بحال کرکے اسکا چیئرمین مقرر کیا جائے۔

اسی بارے میں