’بلوچستان میں نو ماہ میں 8000 سے زائد گرفتار، 204 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ نو ماہ کے دوران آٹھ ہزار 363 افراد کو گرفتار کیا گیاہے جو کہ اتنے عرصے میں سب سے بڑی گرفتاری ہے۔بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا قانون کے مطابق ٹرائل کیا جائے گا۔

گذشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ان میں تیزی آئی ہے۔ سرکای حکام ان کاروائیوں کو سرچ آپریشنز کا نام دے رہے ہیں۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق 16دسمبر 2014سے لیکر15ستمبر 2015 تک انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر1800 سے زائد ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے۔

محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق نوماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عسکریت اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 204 افراد ہلاک اور 29زخمی ہوئے۔

ذرائع نے بتایا کہ نیشنل ایکش پلان کے تحت صوبے میں کام کرنے والی2600 سے زائد این جی اوز کی رجسٹریشن بھی معطل کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے جمعرات کومیڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ان افراد کا قوانین کے مطابق ٹرائیل ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق ’بلوچستان نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پہلے نمبر پر ہے۔‘

ان افراد میں سے زیادہ کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے ۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی جاتی رہی ہیں ان کے مطابق ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے ہے۔ جبکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق مذہبی شدت پسند تنظیموں سے بھی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد جن لوگوں پر الزام ثابت نہ ہو تو ان کو چھوڑ دیا جا تا ہے۔

ان افراد کی گرفتاری کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بارے میں جب ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان شاخ کے سربراہ سردار طاہر حسین ایڈووکیٹ سے پوچھا گیا تو کا کہنا تھا کہ آٹھ ہزار سے زائد افرادکی گرفتاری کی بات آج سامنے آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’قانون کے مطابق تفتیش صرف پولیس کرسکتی ہے۔ جس کو شخص کوگرفتار کیا جائے اس کو پولیس وجہ بھی بتائے گی۔‘

طاہر حسین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا ’اس طرح آئین کے مطابق گرفتار افراد کو اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا حق حاصل ہے تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آٹھ ہزار افراد کی گرفتاری کی بات تو اخبار میں آئی ہے لیکن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کو کن مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان کی گرفتاری کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں اس کی بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں