ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور ہائی کورٹ نے ایک اور مجرم حیدر علی کی موت کی سزا پر بھی عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی طرف سے ایک مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

مجرم طاہر کو فوجی عدالت نے دو سال قبل بنوں جیل پر حملہ کرنے اور وہاں سے کالعدم تنظیموں کے درجنوں شدت پسند فرار کروانے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کو معطل کر دیا

مجرم طاہر اُن مجرموں میں شامل ہیں جنھیں فوجی عدالتوں نے مختلف مقدمات میں ستمبر کے مہینے میں موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے ایک اور مجرم حیدر علی کی موت کی سزا پر بھی عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نور الحق قریشی نے مجرم طاہر کے والد میر شاہ کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اُن کا بیٹا گذشتہ دو سال سے لاپتہ تھا تاہم اُنھیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ اُس کے بیٹے کو فوجی عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اُنھیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اُن کے بیٹے کو اتنے عرصے کہاں رکھا گیا اور نہ ہی اُنھیں یہ معلوم ہے کہ اُن کے بیٹے کا ٹرائل کہاں پر ہوا۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ سزائے موت کی خبر ملنے کے بعد اُنھوں نے متعقلہ حکام سے رابطہ کیا لیکن اُنھیں اس فیصلے کو اعلی عدلیہ میں چیلنج کرنے کے لیے دستاویزات تک فراہم نہیں کی گئیں۔

عدالت نے اس درخواست کے پیروی کے لیے پیش ہونے والے سرکاری وکیل سے استفسار کیا ہے کہ ابھی تک مجرم کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے مصدقہ دستاویزات فراہم کیوں نہیں کی گئیں جس پر اُنھوں نے لاعملی کا اظہار کیا۔

سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنھیں مجرم طاہر کے مقدمے کی تفصیلات معلوم کرنے اور مصدقہ نقول فراہم کرنے کے لیے پندرہ روز کی مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

یاد رہے کہ اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمے کی سماعت کی منظوری کے بعد سے یہ فوجی عدالت کا دوسرا فیصلہ ہے جیسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں