ملالہ کے وکیل حملے میں محفوظ

Image caption سید نعیم خان انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر ہیں اور ملالا یوسف زئی حملہ کیس میں ملالہ کے سرکاری وکیل تھے جن کے ملزمان کو عدالت نے سزائے موت سنائی

پولیس حکام کے مطابق سوات میں انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے سینئر پبلک پراسیکیوٹر اور ملالا یوسف زئی حملہ کیس میں ملالہ کے سرکاری وکیل سید نعیم خان پر نامعلوم افراد فائرنگ کی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کواس وقت پیش آیا جب وہ گھر سے نکل رہے تھے۔ ’گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کی تا ہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہے واقعے کی رپورٹ تھانہ سیدو شریف میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہیں۔‘

تھانہ سیدو شریف کے محرر عزیز اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس واقعے کی تفتیش کررہی ہے تاہم اب تک حملے میں ملوث کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے

بتایا جاتا ہے کہ سید نعیم خان پر ہونے والے حملے کے بعد وہ اہل خانہ سمیت سوات چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہوچکے ہیں اس حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابط نہیں ہوسکا۔

واضح رہے کہ سید نعیم خان انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے پبلک پراسیکیوٹر ہیں اور ملالا یوسف زئی حملہ کیس میں ملالہ کے سرکاری وکیل تھے جن کے ملزمان کو عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ سید نعیم خان کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ اور ان کے دیگر شدت پسندوں کے خلاف حکومت کی طرف سے کئی مقدمات میں وکالت کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں