طلبہ کی شکایت پر کامسیٹس کے خلاف تحقیقات

Image caption بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر احترام ڈار نے جمعرات کو شکایت کنندہ اور کامسیٹس کے حکام سے انٹریوز کیے اور دستاویز قبضے میں لی ہیں

انسداد بدعنوانی کے سرکاری ادارے نیب نے طلبہ کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والے خودمختار تعلیمی ادارے کامسیٹس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

نیب لاہور کے ترجمان جہانزیب عظمت نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے نے کامسیٹس کے خلاف ملنے والی شکایات پر ابتدائی کارروائی شروع کر دی ہے۔

انھوں نے اس کارروائی کی تفصیل بتانے سے انکار کیا تاہم نیب کے بعض حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر احترام ڈار نے جمعرات کو شکایت کنندہ اور کامسیٹس کے حکام سے انٹریوز کیے اور دستاویز قبضے میں لی ہیں۔

کامسٹیس کے لاہور کیمپس کی انتظامیہ پر الزام ہے کہ انھوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری کے بغیر دہری ڈگری (ڈوئل ڈگری) پروگرام شروع کیا اور تعلیم مکمل کر لینے والے طلبہ کو ڈیڑھ برس گزر جانے کے باوجود ایک بھی تصدیق شدہ ڈگری جاری نہیں کی۔

نیب کو ملنے والی شکایت میں ان طلبہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ 2010 میں اس دہری ڈگری پروگرام کے تحت کامسیٹس لاہور میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بتایا گیا کہ انھیں کامسیٹس کے علاوہ برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی کی ڈگری بھی دی جائے گی۔

کامسیٹس کے اس دہری ڈگری پروگرام سے متاثر ہونے والے طلبہ میں محسن الیاس بھی شامل ہیں جنھوں نے کامسیٹس لاہور سے الیکٹریکل انجینرنگ میں ڈگری کے لیے داخلہ لیا تھا۔

’سارے امتحانات پاس کیے ہوئے مجھے ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اور مجھے ابھی تک ڈگری نہیں دی گئی۔ نہ میں مزید تعلیم جاری رکھ سکتا ہوں اور نہ ہی کہیں ملازمت کر سکتا ہوں۔ مجھے تو اپنا مسقتبل تباہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔‘

لیکن اپریل 2004 میں چار سالہ ڈگری پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے والے طلبہ کو ابھی تک کامسیٹس کی ڈگری جاری نہیں کی گئی۔ ان طلبہ کو ابتدائی طور پر لینکاسٹر یونیورسٹی کی ڈگری جاری کی گئی جس کی تصدیق سے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ دہری ڈگری پروگرام شروع کرنے سے قبل اس ادارے سے باضابطہ اجازت نہیں لی گئی تھی لہٰذا دوہری ڈگری کا پروگرام غیر قانونی ہے۔

یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے نمائندے یاسر صدیقی کے ذریعے انسداد بدعنوانی کے ادارے نیب کو تحریری درخواست بھیجی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کامسیٹس لاہور نے طلبہ سے دھوکے سے دو ڈگریوں کے پیسے وصول کیے جبکہ ایک بھی ڈگری نہیں دی گئی ہے۔

یاسر صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ دہری ڈگری پروگرام کے نام پر تین ہزار طلبہ سے ڈھائی ارب روپے اضافی وصول کیے گئے ہیں۔

’ہم نے نیب سے کہا ہے کہ کامسیٹس نے دو ڈگریوں کے نام پر طلبہ سے اضافی رقم وصول کی اور انھیں ایک بھی ڈگری جاری نہیں کی۔ یہ کرپشن کا ایک سیدھا سا کیس ہے جس میں کامسیٹس لاہور کی انتظامیہ ملوث ہے۔‘

کامسیٹس لاہور میں دہری ڈگری پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ایم اے فاروقی نے بی بی سی کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود اس بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کیا تاہم ان کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ نیب لاہور کے حکام نے ڈاکٹر صدیقی سے دہری ڈگری سے متعلق دستاویز طلب کی ہیں۔

کامسیٹس نے البتہ نیب کے سامنے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انھوں نے اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی زبانی منظوری کے بعد اس پروگرام کا آغاز کیا تھا تاہم بعد ازاں اسے ڈگری جاری کرنے کی تحریری اجازت نہیں دی گئی۔ کامسیٹس کے مطابق انھیں پاکستان میں غیر ملکی معیار کی تعلیم فراہم کرنے سے روکنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی تفتیش کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ قواعد کی خلاف ورزی کا ہے یا اس میں کچھ غیر قانونی بھی ہوا ہے۔

لینکاسٹر یونیورسٹی کی ترجمان وکٹوریہ ٹائریل نے بی بی سی کے سوالوں کے جواب میں تصدیق کی کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز نیب نے کامسیٹس کے معاملات میں تفتیش شروع کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لینکاسٹر یونیورسٹی کے علم میں کامسیٹس میں بد عنوانی کا کوئی واقعہ نہیں ہے۔

لینکاسٹر یونیورسٹی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں پچھلے سال معلوم ہوا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن دہری ڈگری کے پروگرام کی اجازت نہیں دیتا۔ ’اس سے پہلے ہمیں اس پروگرام کے بارے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحفظات کا علم نہیں تھا۔‘

اسی بارے میں