دہشت گردی کی کوریج ’تفریحی صحافت‘ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی میڈیا میں بڈھ بیر پر ہونے والے حملے کی کوریج بڑے پیمانے پر کی گئی

ایک قدرے طویل وقفے کے بعد پشاور میں بڈھ بیر کیمپ پر حملے نے ایک مرتبہ پھر اس پہلو کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ کیا ایسے حملوں کی گھنٹوں براہ راست ٹی وی سکرینز پر نشریات کیا مفید ہیں؟

ان سے ہمارا زیادہ فائدہ ہوتا ہے یا شدت پسندوں کا؟ اور یہ نشریات لوگوں کو مطلع زیادہ کرتی ہیں یا شدت پسندوں کے حوصلے بڑھاتی ہیں؟

ٹیلیویژن کے لیے اس طرح کے حملے نشریات کا زبردست موقع اور مواد فراہم کرتے ہیں۔ جائے وقوعہ سے گھنٹوں صحافی تازہ ترین نقل وحرکت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں، چینل وہاں سے ملنے والے مناظر نشر کرتے ہیں اور ایک جنگی کیفیت کا سا سماں باندھ دیتے ہیں۔

عام پرامن شہریوں کو اس کوریج کا فائدہ ہو نہ ہو شدت پسندوں کی دکان بظاہر چمک جاتی ہے۔ ان کی جانب سے یہ اپنے ان ساتھیوں کے لیے ایک پیغام ہے جو مارے جا رہے ہیں، گرفتار ہو رہے ہیں یا ناامیدی کا شکار ہیں۔

پیغام یہ ہے کہ ابھی عسکریت پسند تنظیم موجود ہے، متحرک ہے اور کارروائی کرنے کی تھوڑی بہت صلاحیت بھی رکھتی ہے تو آپ حوصلہ نہ ہاریں، جو کام حوالے کیا گیا ہے کرتے رہیں یا ان کی تازہ ہدایات کا انتظار کریں۔

ایک ایسا حملہ اور اس کی مسلسل کوریج کئی مزید حملوں کا امکان بڑھا دیتے ہیں۔ ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ان حملوں کی کوریج کی وجہ سے شدت پسند عام لوگوں میں اپنا خوف برقرار رکھ پاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ شدت پسند چاہے وہ پاکستانی، افغان طالبان ہوں، بوکو حرام ہو یا دولت اسلامیہ سب میڈیا کوریج کے متمنی رہتے ہیں اور ایسے اہداف کا انتخاب کرتے ہیں جو زیادہ وسیع پیمانے پر خبر بنائے۔

شام میں جنگی میدان میں چونکہ آج کل تعطل ہے تو دولت اسلامیہ کے شدت پسند اور کچھ نہیں تو قدیم نوادرات اور آثار قدیمہ کو بموں سے اڑا دیتے ہیں۔

وجہ وہی کہ میڈیا میں موجودگی برقرار رکھنی ہے اور نئے ریکروٹس کو بھرتی کرنا ہے۔ پیغام یہی ہوتا ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے جو شریک ہونا چاہتا ہے آ جائے۔

کنگز کالج لندن کے ڈیفنس سٹڈیز ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر ڈیوڈ رابرٹس نے گذشتہ دنوں ایک مضمون میں لکھا کہ ایسے شدت پسند گروپوں کی ہنگامی ضرورت توجہ حاصل کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شدت پسند چاہے وہ پاکستانی، افغان طالبان ہوں، بوکو حرام ہو یا دولت اسلامیہ سب میڈیا کوریج کے متمنی رہتے ہیں

سنہ 2008 میں ایک دن شدت پسند رہنما بیت اللہ محسود کا ٹیلیفون موصول ہوا جس میں امریکی شہر میں ایک ویتنامی نژاد امریکی کے ہاتھوں چند افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب قبائلی علاقوں پر پاکستانی طالبان کا مکمل کنٹرول تھا اور بیت اللہ کی نظریں اپنی تنظیم کو بین الاقوامی سطح پر استوار کرنے کی کوشش میں جتی تھیں۔ اس دعوے سے ان کا بظاہر مقصد دنیا بھر میں عسکریت پسندوں کو بتانا تھا کہ وہ ان سے رجوع کرسکتے ہیں کیونکہ ان کا ہدف اب پوری دنیا ہے۔ امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

اس طرح کے حملوں سے شدت پسند یہ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے دشمن کو ایک طویل جنگ میں پھنسائے رکھیں۔ اسامہ بن لادن اس طرح کے حملوں سے امریکہ کو افغانستان کھینچ لائے جبکہ یہی فارمولا استعمال کرتے ہوئے دولت اسلامیہ نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو شام میں جنگ میں پھانس لیا ہے۔

کوریج کتنی خطرناک ہوسکتی ہے اس کی ایک مثال پیرس میں چالی ہیبڈو پر حملے کے دوران واضح تھی جہاں ایک شہری میڈیا کو اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے کے الزام میں عدالتی چارہ جوئی کرنے والے ہیں۔

میڈیا اس طرح کی کوریج میں اکثر خطرات کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتا ہے۔

پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی ہلاکت کے بعد اکثر میڈیا پر رپوٹر یہ راگ الاپ رہے تھے کہ اٹک کے اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند ہر جگہ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کیا یہ درست بیان ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر شدت پسند اتنی صلاحیت رکھتے تو شجاع مرحوم سے کئی دیگر بڑے اہداف تھے لیکن چونکہ وہ ان پر حملہ نہیں کرسکے انہوں نے آسان جگہ یعنی وزیرِ داخلہ کا گاؤں چنا۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کی کوریج ’تفریحی‘ صحافت نہیں ہے۔ یقینا آزاد سوشل میڈیا پر فی الحال کسی کا قابو نہیں اور وہاں پر آپ کو تصاویر اور سب کچھ مل جاتی ہیں لیکن ڈاکٹر ڈیوڈ کے بقول انٹرنیٹ کو آپ اب ختم نہیں کر سکتے ہیں لیکن آپ مین سٹریم میڈیا کی سمت درست رکھ سکتے ہیں۔

اس کے لیے چند فلٹرز کی ضرورت ہوگی اور وہ کیا ہوسکتے ہیں آزادی اظہار کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس پر بحث ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں