’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں بہت نقصان ہوا ہے

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بڈھ بیر میں پاکستان فضائیہ کے کیمپ پر حملہ کرنے والوں کا مقصد پاکستانی فوج کے خاندان والوں کو نشانہ بنانا تھا جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک نیوز بریفینگ میں کہا کہ ’امریکہ اس حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور متاثرین کے خاندان والوں کو تعزیت پیش کرتا ہے۔‘

فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 26 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 43 ہلاک

’حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول ہوا‘

فضائیہ کے کیمپ پر حملے کی تصاویر

’حملہ آوروں نے نمازیوں پر دستی بم پھینکے‘

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہاتھوں بہت نقصان ہوا ہے اور امریکہ پاکستان کے عوام اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ’جتنا نقصان پاکستان کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ہوا ہے اتنا کسی اور ملک کو نہیں ہوا۔‘

’پاکستان فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والا حملہ ہولناک ہے اور قابل مذمت بھی ہے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ واقعہ نیا نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا حصہ ہے

ان کا کہنا اتھا کہ ’ہم شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کی مسلسل جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ حملہ اس قسم کی کارروائیوں میں اضافہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسے پاکستانی عوام کی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔

دوسری جانب پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا ہے کہ محمکہ انسداد دہشت گردی نے نامعلوم افراد کے خلاف پاکستان فضائیہ کی مدعیت میں اس حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بڈھ بیر اور پشاور کے مضافاتی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی جانب سے سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پشاور کے قریب بڈھ بیر میں قائم فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور دہشت گرد بھی وہیں سے آئے تھے۔

جمعے کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں 13 حملہ آوروں سمیت کل 43 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عاصم باجوہ نے کہا کہ ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور جاری رہے گا

کارروائی کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد جمعے کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی کو بھی افغانستان سے ہی کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

انھوں نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران پاکستانی فضائیہ کے 23 اور برّی فوج کے تین اہلکاروں کے علاوہ فضائیہ کے چار شہری ملازمین بھی ہلاک ہوئے۔

میجر جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران خفیہ اداروں نے حملہ آوروں کی جو گفتگو سنی اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروہ سے تھا اور یہ تمام افغانستان سے آئے تھے۔

حملہ آوروں کی تعداد کے حوالے سے ٹی ٹی پی کی طرف سے کیے گئے دعویٰ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جتنے بھی دہشت گرد کیمپ میں داخل ہوئے انھیں ہلاک کر دیا گیا اور ان کی لاشیں وہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملہ آوروں ملیشیا وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کے پاس راکٹ لانچر بھی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس حملہ آور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں عاصم باجوہ کے مطابق سریع الحرکت فورس کے علاوہ لائٹ کمانڈوز اور سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا اور بہت جلد دہشت گرد کا محاصرہ کر کے ان کے نہ صرف فرار کے راستے مسدود کر دیے بلکہ انھیں ہلاک کر دیا۔

افغانستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر پٹاخہ بھی پھٹتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ افغانستان کی ریاست اس واقعے میں ملوث ہو سکتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں حکومت کی عملداری نہیں ہے۔

اسی بارے میں