سوات کی حدیقہ بشیر کو انسانی حقوق کا ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حدیقہ بشیر پہلی پاکستانی لڑکی ہیں جنھیں یہ ایوارڈ دیاگیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی آٹھویں جماعت کی طالبہ حدیقہ بشیر کو امریکہ میں ’محمد علی ہیومینیٹرین ایوارڈ‘ سے نوازا گیا ہے۔

حدیقہ بشیر کو یہ ایوارڈ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کے خلاف شعوری مہم چلانے اور مختلف فورمز پر اس کے خلاف آواز اٹھانے پر دیاگیا ہے۔

یہ ایوارڈ ہردو سال بعد مختلف شعبوں میں بہتر کام کرنے والے تیس سال سے کم عمر کے چھ لوگوں کو دیا جاتا ہے اس بار یہ ایوارڈ جن چھ افراد کو دیاگیا ہے ان میں کولمبیا، امریکہ، برطانیہ، یوگنڈا کے افراد شامل ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ حدیقہ بشیر پہلی پاکستانی لڑکی ہیں جنھیں یہ ایوارڈ دیاگیا ہے اور وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین لڑکی بھی ہیں۔

یاد رہے کہ حدیقہ بشیر سے پہلے سوات سے ہی تعلق رکھنے والی ملالا یوسفزئی کو نوبل ایوارڈ جبکہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے بننے والے پہلے خواتین جرگے کی سربراہ تبسم عدنان کو امریکی محکمۂ خارجہ کی طرف سے’حوصلہ مند خاتون‘ کا ایوارڈ دیاگیا تھا۔

چودہ سالہ حدیقہ بشیر کا تعلق سوات کے علاقے سیدو شریف سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’اس مہم کا خیال اس وقت آیا جب میری ایک سہیلی کی شادی کم عمری میں کردی گئی تھی‘

حدیقہ کے مطابق سوات کے قدامت پسند معاشرے میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کے بارے میں بات کرنا کچھ حد تک مشکل کام ضرور ہے کیونکہ انھیں اپنی اس مہم کے دوران بعض اوقات لوگوں کے سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حدیقہ کے مطابق انہیں کم عمری میں شادی کے خلاف مہم کا خیال اس وقت آیا جب ان کی ایک سہیلی کی شادی کم عمری میں کر دی گئی اور بعد میں وہ ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد سے دوچار ہوئی جس کے بعد ’میں نے کچھ سہیلیوں کے ہمراہ‘ گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائٹس‘ کے نام سے ایک گروپ بنا کرگھر گھر جا کر کم عمری کے شادی کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی دینے کا سلسلہ شروع کیا اور اب میں گھروں کے علاوہ سکولوں اور کالجوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بھی اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

حدیقہ کے والدین اور علاقے کے لوگ اس ایوارڈ پر بہت خوش ہیں۔ حدیقہ کے والد افتخار حسین نے، جو سیدو شریف میں اپنا سکول چلاتے ہیں، بتایا کہ یہ کامیابی سوات کی تمام بچیوں کی کامیابی ہے جبکہ ان کی والدہ ساجدہ افتخار کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ حدیقہ نے سوات اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک قبول شدہ سماجی رواج ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہات غربت، تعلیم کی کمی، قبائلی و سماجی رسم و رواج اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہیں۔

اسی بارے میں