کراچی میں پولیس چھاپے کے دوران خودکش دھماکہ، دو اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس کا علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے علاقے ملیر میں پولیس اور حساس اداروں کی کارروائی کے دوران ایک مبینہ خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ پولیس کو علاقے میں ایک مشتبہ شدت پسند فرحان عرف پٹھان کی موجودگی کی اطلاع تھی جس پر ملیر کےسینیئر سپرٹینڈنٹ پولیس راؤ انور کی سربراہی میں پولیس اور حساس اداروں کی ایک ٹیم نے رفاہِ عام سوسائٹی میں اتوار کی صبح چھاپہ مارا۔

ایس ایس پی راؤ انور نے چھاپے کی مختصرتفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ یہ ملزم کم از کم ایک سال سے علاقے میں مقیم تھا۔اطلاع ملنے پر جب پولیس نے چھاپہ مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔فائرنگ کے بعد ملزم نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

فرحان عرف پٹھان پر پولیس افسران اور رینجرز کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنک میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

ملزم سے ملنے والے اسلحے کو تحقیقات کے لیے فارنزک ڈیپارٹمنٹ بھیجاگیا ہے۔

زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو علاج کے لیے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس کا علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس دوران علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں بند کرکے تلاشی لی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

واضح رہے گذشتہ دنوں کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کے دو سال مکمل ہونے پر پولیس اور رینجرز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ شہر میں 70 فی صد امن قائم ہوچکا ہے۔

رینجرز کے کرنل امجد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان، لشکر جھنگوی کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے عسکری دھڑوں اور لیاری گینگ وار کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس لگاتار اور پرخلوص کارروائی کے باعث ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاون کی وارداتوں میں 60 سے 70 فیصد کمی ہوچکی ہے۔

رینجرز کے مطابق ’گذشتہ دو سالوں میں رینجرز نے چھ ہزار سے زائد آپریشن کیے، جن میں ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جن میں 913 دہشت گرد، 500 ٹارگٹ کلرز اور 347 بھتہ خور شامل ہیں ان گرفتار ملزمان میں سے 3,500 کو پولیس کے حوالے کیاگیا۔‘

اسی بارے میں