بڈھ بیر کیمپ کے پانچ ’پاکستانی‘ حملہ آوروں کی تصاویر جاری

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے حکام کے مطابق پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں سے پانچ کی شناخت کر لی گئی ہے جو سب پاکستانی ہیں۔

ادھر سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق قومی سلامتی اور امورِ خارجہ کے لیے وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر سرتاج عزیز نے اس موقف کو دہرایا ہے کہ جمعے کو کیمپ پر حملہ کرنے والے افراد کے رابطے افغانستان میں تھے۔

بڈھ بیر میں قائم کیمپ پر ہونے والے اس حملے میں 26 فوجیوں سمیت 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں 14 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

پشاور میں ایک سرکاری اہلکار نے اتوار کو بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ حملے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جن دہشت گردوں نے حصہ لیا تھا ان میں سے پانچ کی شناخت ان کے انگلیوں کے نشانات سے کر لی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شناخت ہونے والے حملہ آوروں میں رب نواز، محمد اسحاق، سراج الدین، عدنان اور ابراہیم شامل ہیں جن میں سے تین کا تعلق خیبر ایجنسی اور دو کا ضلع سوات سے بتایا جاتا ہے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق حملہ آوروں کا تمام ریکارڈ متعلقہ تھانوں اور دفاتر کو جاری کر دیا گیا ہے تاکہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے حملہ آوروں کی شناخت منظرِ عام پر آنے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردوں کے کوائف فوراً بتانے سے تفتیش پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

نیوز چینلز نے وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ آوروں کی نشاندہی تو جمعے کو ہی ہوگئی تھی تاہم معاملے کی حساسیت کے سبب معلومات عام نہیں کی گئی تھیں۔

’ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے ٹیلیفون کالز آئیں‘

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اتوار کو ایک نجی ٹی وی سے بات چیت میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں دہشت گردوں کی جانب سے افغانستان رابطہ کیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس بات کے ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کا افغانستان میں رابطہ ٹیلیفون کے ذریعے تھا۔ اب جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں ہے تو دہشت گردوں کے افغان سرزمین پر رابطے ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘

سرتاج عزیز نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کسی کارروائی کے تانے بانے افغانستان سے ملے ہوں اور گذشتہ برس 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کی منصوبہ بندی بھی وہیں ہوئی اور اس بارے میں افغان حکام کو معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اب دوبارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے ٹیلیفون کالز موصول ہوئیں۔ اس بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور ان کی تکمیل پر معلومات کا تبادلہ افغان حکام سے کیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ جمعے کو ہونے والے اس حملے کی بعد پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ پشاور میں فضائیہ کے کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی۔

تاہم اگلے ہی دنافغان حکومت کی جانب سے اس دعوے کی تردید سامنے آئی اور افغان ایوان صدر کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان دعوؤں کو، جن میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کی تیاری اور اس پر عمل افغانستان سے کنٹرول کیا گیا، بےبنیاد سمجھتے ہیں اور ان کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی شخص، گروہ یا حکومت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ دوسرے ملکوں پر حملے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کی صبح 14 دہشت گردوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد ان کی لاشیں بڈھ بیر قبرستان میں سپرد خاک کر دی گئیں۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے کی ایف آئی آر کیمپ کمانڈنٹ کی مدعیت میں محکمہ انسداد دہشت گردی خیبر پختونخوا میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لی گئی ہے۔

سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے بڈھ بیر اور آس پاس کے علاقوں میں سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اب تک درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ اس کے علاوہ کوہاٹ میں بھی فضائیہ کیمپ حملے کے سلسلے میں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں