’مدارس کو رقم دیتی تو حکومت کو حق تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Rueters
Image caption مولانا سمیع الخق نے تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ پاکستان میں مدارس کی فنڈنگ سے متعلق چھان بین انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ایک اہم جز ہے

طالبان کے استاد سمجھے جانے والے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مولانا سمیع الحق نے مدارس میں اصلاحات کی حکومتی کوشش سے متعلق کہا ہے کہ حکومت اس صورت میں مدرسوں کی جانچ پڑتال کا حق رکھتی ہے اگر وہ ان کی مالی معاونت کرتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت ہمیں (مدارس کو) کچھ پیسے دیتی یا مالی مدد کرتی تو پھر تو اسے حق تھا کہ ہم پر نظر رکھے لیکن حکومت نے تو کبھی ایک آنے کا تعاون نہیں کیا تو پھر چیک کیوں کرے؟ یہ تو غریب مسلمان اپنے پیٹ کو کاٹ کر دینی مدارس چلا رہے ہیں۔‘

خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں واقع مدرسے کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ پاکستان میں مدارس کی فنڈنگ سے متعلق چھان بین انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ایک اہم جز ہے اور کہا ’حکومتیں اصل مسائل پر توجہ کیوں نہیں دیتی؟‘

’ہمارے مدارس رجسٹرڈ ہیں ان کا ابتدا سے ہی آڈٹ ہوتا ہے اور پاکستان میں ایوب خان کے دور سے حکومتیں مدارس کے خلاف کوشش کر رہی ہیں مگر ان کی یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہو گی۔‘

گذشتہ جمعے کو بڈھ بیر میں پاکستان فضائیہ پر حملے کے بعد سیاسی اور فوجی قیادت کی ملاقاتوں میں تیزی معمول بنتی جا رہی ہے۔

حالیہ ملاقات میں بھی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم بڈھ بیر کے حملے نے قومی ایکشن پلان سے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

حکومت نے قومی ایکشن پلان کا ایک اہم جز ملک میں قائم مدارس پر نظر رکھنے کو قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول اس پر عمل درآمد کی راہ میں متعدد رکاوٹیں حائل ہیں۔ مدارس پر حکومتی نگرانی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان میں موجود کل مدارس کی تعداد سے متعلق مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں اور ہر حکومت ہر دور میں محتلف اعداد و شمار دیتی آئی ہے۔

اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پانچ مختلف مکتبۂ ہائے فکر سے جڑے 30 ہزار سے زیادہ مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم ایسے بیشتر مدارس موجود ہیں جو نہ تو ان کے یا حکومت کے ساتھ رجسڑڈ ہیں۔

انتہا پسندی سے جڑے متنازع مدارس کے خلاف کارروائی، مدارس میں اصلاحات یا ان کی فنڈنگ کے بارے میں جس بھی حکومت نے سوال اٹھایا اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سلسلے میں مولانا سمیع الحق نے مدارس کے علما کی سیاسی اور فوجی قیادت سے ہونے والی ملاقات کو خوش آئند تو قرار دیا مگر وہ امتیازی سلوک کا شکوہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے قومی ایکشن پلان کا ایک اہم جز ملک میں قائم مدارس پر نظر رکھنا قرار دیا ہے

’حکومت ہماری ثقافت خراب کرنے والی این جی اوز کے خلاف تو کارروائی نہیں کرتی صرف مدارس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہے۔‘

مدارس پر حکومتی نگرانی کیوں قائم نہ کی جائے؟ مدارس چلانے والے ہی اپنے مدارس کی جوابدہی کیسے کر سکتے ہیں؟ کے سوال پر مولانا سمیع الحق نے کہا ’وفاق المدارس یا ہمارے مدارس کے بورڈز موجود ہیں ان سے مشاورت کے بعد حکومت اقدامات کرے۔‘

مولانا سمیع الحق نگرانی کے حکومتی طریقہ کار پر متعدد تحفظات ماضی میں بھی اور اب بھی رکھتے ہیں۔ ان تحفظات کی آواز پاکستانی پارلیمان میں بھی گونجی۔ حکومت نے حال ہی میں جب مدارس کی چھان بین کے لیے وہاں چھاپے مارے تو جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمینٹ کے اندر متعدد مزاحمتی تقاریر کیں۔ کبھی دبے الفاظ میں تو کبھی کھل کر حکومت کو مدارس کی انتظامیہ کی ناراضگی مول نہ لینے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور سے لگنے والا مدارس میں اصلاحات کا نعرہ بظاہر آج بھی محض ایک نعرہ ہی معلوم ہوتا ہے۔

اس میں ناکامی کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے سکیورٹی کے امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں ’ریاست کی مدارس سے متعلق پالیسی آج بھی مبہم ہے۔ مدارس کے لیے نرم گوشہ بھی ہے اور شاید حکومت کو یہ خوف بھی ہے کہ مدارس کے لوگ مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے تو ان کی حکمرانی خطرے میں نہ پڑ جائے۔‘

انھوں نے مدارس میں اصلاحات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں مزید کہا ’ممبر اور محراب میڈیا کے مقابلے میں شاید رائے سازی کا زیادہ بڑا ادارہ بن چکے ہیں۔ گوکہ مدارس چلانے والی بیشتر ایسی مذہبی جماعتیں انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں مگر عوامی رائے کو حکومت کے خلاف کرنے میں ہمیشہ خاصی سازگار رہی ہیں۔ اور شاید ان کی عوامی طاقت ہی سیاسی حکومتوں کا سب سے بڑا حوف ہے۔‘

اسی بارے میں