جب سٹون ہینج برائے فروخت تھا

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ہر سال تقریباً دس لاکھ کے قریب سیاح اس قدیم یادگار کو دیکھنے آتے ہیں

آج کے دور میں سٹون ہینج برطانیہ کی سب سے اہم اور مقبول یادگار ہے لیکن سو سال قبل یہ یادگار فروخت کے لیے دستیاب تھی۔ جس شخص نے اُس وقت سٹون ہینج خریدا تھا انھوں نے اس کی قسمت بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سالسبری کی وادی میں کھڑے یہ بڑے بڑے پتھر دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے سٹون ہینج کو سنہ 1986 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ ہر سال تقریباً دس لاکھ کے قریب سیاح اس قدیم یادگار کو دیکھنے آتے ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ یہ سوچنا بھی کہ کبھی برطانیہ کی سب سے اہم یادگار ایک وکیل نے اپنی اہلیہ کے لیے بطور تحفہ خریدی تھی حیرت کا باعث ہے۔ یہ تو ہوئی اس فروخت کے پیچھے چھپی ایک کہانی، دوسری کہانی کے مطابق سٹون ہینج خریدنے والے وکیل کو اس بات کا ڈر تھا کہ یہ یادگار کسی امیر امریکی کے ہاتھوں فروخت ہو سکتی ہے۔

اس خریداری کے پیچھے محرک جو بھی رہا ہو، سو سال قبل 21 ستمبر 1915 کو سالسبری کے علاقے وِلٹ شائر میں ہونے والی نیلامی میں سیسل چب نے اس یادگار کی قیمت 6,600 برطانوی پاؤنڈ ادا کی تھی۔ چب کا کہنا تھا کہ انھوں نے بس ’اچانک فیصلہ‘ کیا تھا۔

چب کی اہلیہ میری ان کے اس رومانوی تحفے سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں اور اس کی ممکنہ وجہ سٹون ہینج کی قیمت ہو سکتی ہے جو آج کے زمانے کے چھ لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ کے مساوی تھی۔ سٹون ہینج کے نگراں ہیتھر سیبائر کہتے ہیں کہ ’کہا جاتا ہے کہ میری چاہتی تھیں کہ نیلامی میں سیسل پردے خریدیں جبکہ وہ تو کچھ اور ہی خرید کر لوٹے۔‘

آرمِسٹس معاہدے کے تحت جنگِ عظیم اول کے ختم ہونے سے 16 روز قبل 26 اکتوبر 1918 کو چب نے سٹون ہینج تحفتاً عوامی ملکیت کے لیے پیش کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ stonehenge
Image caption سٹون ہینج اب برطانیہ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے والی تنظیم انگلش ہیریٹج کے زیرانتظام ہے

برطانیہ کے اس وقت کے نئے وزیر اعظم ڈیوڈ لائڈ جارج نے اس دریا دلی کے عوض انھیں نائٹ ہُڈ کے اعزاز سے نوازا اور وہ چب سے ’سر سیسل چب‘ ہو گئے، سٹون ہینج کے پہلے نواب۔

اس موقعے پر چب نے خاص طور پر علامتی نشان بنوایا تھا جس پر چاندی کی طرح چمکتے شیر کے پنجے نے مِزل ٹو (طفیلی بیل یا پودا) کی دو شاخیں تھامی ہوئی تھیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سٹون ہینج میں عبادت کرنے والوں کے لیے وہ ایک مقدس پودا تھا۔ چب کے بنوائے ہوئے علامتی نشان پر ’سیکسِس کونڈیٹا‘ کندہ تھا جس کے معنی ’پتھروں پر قائم‘ ہیں۔

چب کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی پیدائش سنہ 1876 میں ہوئی تھی اور ان کے والد سٹون ہینج سے کچھ کلومیٹر کی دوری پر شروٹن کے ایک گاؤں میں گھوڑوں کی لگام اور زین بنانے کا کام کرتے تھے۔ انھوں نے گرامر سکول سے تعلیم حاصل کی جبکہ دوران تعلیم کیمبرج یونیورسٹی میں کچھ عرصہ طالب علم استاد بھی رہے۔ انھوں نے وکالت کی سند حاصل کی جس کے بعد وہ مالی طور پر وہ خاصے خوش حال ہوگئے تھے۔

سٹون ہینج عوامی ملکیت میں دیتے وقت چب اپنی جڑیں نہیں بھولے تھے اور قدیم یادگار تحفتاً دینے کے معاہدے کی دستاویز میں انھوں نے شرط شامل کروائی تھی کہ عوام سے سٹون ہینج کے ہر دورے کے دوران ’ایک شلنگ سے زیادہ قیمت‘ نہیں وصول کی جائے گی۔ جبکہ وہاں کے گرجا گھر کی منتظمہ کمیٹی سے کیے جانے والے ایک الگ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ مقامی افراد کا داخلہ مفت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Library of Congress
Image caption لیڈی میری اور سر سیسل چب سنہ 1926 میں

سٹون ہینج اب برطانیہ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے والی تنظیم انگلش ہیریٹج کے تحت ہے۔ قریبی آبادی کے تقریباً 30 ہزار افراد کا آج بھی وہاں داخلہ مفت ہے جبکہ باہر سے آنے والے افراد کے لیے ٹکٹ کی قیمت 14.50 برطانوی پاؤنڈ ہے۔ انگلش ہیریٹج کا کہنا ہے کہ گذشتہ سو سالوں میں بڑھنے والی مہنگائی کے بعد بھی آج جو داخلہ فیس لی جاتی ہے وہ اس زمانے کے مقابلے میں کم ہے۔

سٹون ہینج کے واحد مرد وارث سر ایڈمنڈ اینٹروبس کی وفات کے باعث سنہ 1915 میں سٹون ہینج اور اس سے متصل مثلثی شکل میں پھیلی 30 ایکڑ زمین فروخت کے لیے پیش کر دی گئی تھی۔ سٹون ہینج 1820 کی دہائی سے سر اینٹروبس کے خاندان کی ملکیت تھا۔ سر اینٹروبس برطانیہ کی فوج میں گرینیڈیا گارڈز میں لیفٹیننٹ تھے۔ بیلجیئم کے گاؤں کُروزک میں لڑی جانے والی جنگ عظیم اوّل کی پہلی لڑائی میں ان کی موت ہوئی تھی۔

ہو سکتا ہے کہ چب کی جانب سے سٹون ہینج خریدنے کے پیچھے یہ دکھی کہانی کارفرما رہی ہو، یا پھر میری کی محبت، یا اچھے کام کی بدولت انعام و اکرام پانے کی خواہش جیسے عوامل کار فرما رہے ہوں۔

سٹون ہینج کے نگراں سیبائر کہتے ہیں کہ ’ کیونکہ چب قریبی علاقے کے رہنے والے تھے اس لیے میرا خیال ہے کہ ان کے اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ اس جگہ سے ان کا تعلق تھا۔ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ وہ انٹروبس خاندان کو ذاتی طور پر جانتے تھے، تاہم اس بات کا امکان ہے کہ وہ ان کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے۔‘

نیلامی سے قبل قیاس آرائیاں گردش میں تھیں کہ ممکنہ طور پر ایک امیر غیر ملکی سٹون ہینج خرید کر اس کو ٹکڑوں میں بیرون ملک منتقل کر دے گا۔ سٹون ہینج کی نیلامی کے 50 سال بعد ایسا ہی کچھ لندن برج کے ساتھ ہوا تھا جب اس کو سمندری راستے کے ذریعے امریکی ریاست ایریزونا روانہ کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Flickr Salisburyareaplaques
Image caption سر سیسل چب کی جائے پیدائش کے باہر نصب تختی

برطانوی جریدے ڈیلی ٹیلی گراف میں اُس وقت شائع ہونے والے مضمون میں سٹون ہینج کی فروخت کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ یہ خبر ’قدیم اشیا حاصل کرنے اور جمع کرنے کے دلدادہ امریکی کروڑ پتیوں کو حسد میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہے۔‘

ممکن ہے امریکی ہاتھوں میں سٹون ہینج جانے سے روکنا ہی وہ مقصد ہو جو چب کے اسے خریدنے کے فیصلے کا محرک بنا ہو۔

سٹون ہینج اور ایمزبری کے پادری فرینک سومرز کہتے ہیں: ’سیسل چب نے سٹون ہینج لوگوں کو واپس لوٹا کر اور اس تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنا کر عظیم کام کیا ہے۔ مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس کی قدر و منزلت کا ان لوگوں کی جانب سے احساس کیا جا رہا ہے جنھوں نے خود کو اس کا متولی قرار دیا ہوا ہے۔‘

ہنری ہشتم کے دورِ بادشاہت میں قریبی کلیسا کی جانب سے ضبط کیے جانے کے بعد سے سٹون ہینج نجی ملکیت میں تھا۔ لیکن چب تک پہنچنے تک سٹون ہینج کی حفاظت اور نگہداشت کی ضرورت کو سمجھ لیا گیا تھا۔

قدیم ورثے کو محفوظ بنانے سے متعلق برطانیہ کے قانون ’دی ایشِینٹ مونومنٹ ایکٹ 1913‘ کے تحت پہلی بار لازمی قرار دیا گیا تھا کہ حکومت تاریخی یادگاروں کو واپس خریدے۔ اور اب جبکہ جنگ عظیم اول ختم ہونے والی تھی حکام کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ اس قانون کو لاگو کر سکیں۔ اور سٹون ہینج یقینی طور پر اس قانون کے تحت آتا تھا۔ سیبائر کہتے ہیں کہ ممکن ہے چب کے ذہن میں وہ ایک ایسی ’ذمہ داری‘ بن گیا ہو جس سے عہدہ برآ ہونا آسان نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی انھوں نے اسے بیچنے کی بجائے تحفتاً دینے کو ترجیح دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیاحوں کے لیے نصب معلوماتی بورڈ

سنہ 1934 میں چب انتقال کر گئے جبکہ ان کے صاحبزادے سر جان چب کی وفات سنہ 1957 میں ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا جس کے بعد ان کے خاندان کی موروثیت بھی ان کے انتقال کے ساتھ ہی ختم ہوگئی تھی۔

آج کے دور میں بہت کم لوگوں نے سر سیسل چب کا نام سنا ہے، تاہم شروٹن میں جس گھر میں ان کی پیدائش اور پرورش ہوئی تھی وہاں ان کے نام کی تختی آج بھی لگی ہوئی ہے۔

سٹون ہینج کے ارد گرد کے علاقے میں دو کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ کی لاگت سے تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ سٹون ہینج کے نزدیک سے گزرنے والی اے تھری فور فور سڑک بند کر دی گئی ہے، سیاحت کے لیے آنے والے افراد کے لیے بنائی گئی عمارت اور گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ کو سٹون ہینج سے دور منتقل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اس کے گرد لگائی گئی باڑ بھی ہٹا دی گئی ہے۔

سٹون ہینج تحفتاً دیے جانے کی دستاویز میں چب نے اس بات کی شرط رکھی تھی کہ اس جگہ کو جس حد تک ممکن ہو، اُتنا کھلا رکھا جائے گا۔ چب کے سٹون ہینج خریدنے کے سو سال بعد ایسا لگتا ہے کہ اب ان کی بات پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ان پتھروں کی عظمت ویسے ہی قائم ہے جبکہ ان تک آزادانہ رسائی کے بجائے انھیں محفوظ بنانے کے حوالے سے بحث بھی جوں کی توں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تقریباً 1500 سال قبل از مسیح کے دوران ان پتھروں کو دائرے نما گھوڑے کی نال کی شکل میں رکھا گیا تھا

سٹون ہینج کی کہانی

سٹون ہینج کی جگہ پر سب سے پہلے انسانی سرگرمیاں 7000 سال قبل از مسیح میں دیکھی گئی تھیں۔ اس کی زمین پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام 3100 سال قبل از مسیح کے دوران کیا گیا تھا جبکہ کام کا دوسرا دور 2150 سال قبل از مسیح میں کیا گیا تھا۔

تعمیراتی کام کا تیسرا دور 150 سال بعد اس وقت کیا گیا جب ایک اندازے کے مطابق سینڈ سٹون (مخصوص پتھر) وِلٹ شائر کے شمال سے وہاں پہنچائے گئے تھے۔ بڑے سے بڑے پتھر کا وزن 50 ٹن تھا جنھیں چمڑے کی رسّی اور گھسیٹنے والی گاڑیوں پر رکھ کر گھسیٹا جاتا تھا۔

تقریباً 1500 سال قبل از مسیح کے دوران ان پتھروں کو دائرے نما گھوڑے کی نعل کی شکل میں رکھا گیا تھا۔

سٹون ہینج کی تعمیر کا مقصد آج بھی مخفی ہے۔ تاہم مختلف زمانوں میں لگائے گئے مختلف اندازوں کے تحت یہ جگہ شاہی قبرستان، عبادت کی جگہ، انسانی قربانی دینے کی جگہ، یا پھر یہ وہ جگہ ہو سکتی ہے جہاں سورج گرہن کی پیش گوئی کی جا سکتی ہو۔

سٹون ہینج سورج کے سامنے بالکل سیدھ میں اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ گرمیوں اور سردیوں میں جب سورج زمین سے سب سے زیادہ اور سب سے کم فاصلے پر ہوتا ہے، تو دونوں اوقات میں اس کی روشنی سٹون ہینج کی ایک مخصوص جگہ پر پڑتی ہے۔

تاہم اس بات پر آج تک علمی لحاظ سے کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ اس دور کے مقامی باشندوں کے لیے پتھروں کی یہ ترتیب اور ان کا رُخ اتنی اہمیت کے حامل کیوں تھے۔

اسی بارے میں