’ارکان پارلیمان ضمنی انتخابات کی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ تحریک انصاف اِس فیصلے کے حق میں ہے

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اُس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں ارکان پارلیمان پر مختلف حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی مہم میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ اے ملک نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم میں پارٹی سربراہان کی شرکت پر عائد کردہ پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت پر یہ فیصلہ سنایا۔

تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ ’بدھ کو اِس مقدمے میں حکمِ امتناعی کی درخواست پر بحث ہوئی اور اُس کے بعد عدالت نے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں اب کسی رکنِ قومی اور صوبائی اسمبلی پر کسی بھی حلقے میں انتخابی مہم چلانے پر کوئی پابندی نہیں او وہ اس کے پوری طری مجاز ہیں۔‘

حامد خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نوٹیفیکیشن صرف عمران خان کو انتخابی مہم سے دور رکھنے کے لیے جاری کیا تھا جبکہ دیگر کسی پارٹی کا رہنما اِس کی زد میں نہیں آتا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی، جماعت اسلامی کے سراج الحق یا متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین میں سے کوئی بھی رکنِ پارلیمان نہیں ہے، صرف عمران خان قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور اراکین پارلیمان کو ضمنی انتخابات کی مہم میں حصہ لینے کی اجازت تو دی گئی ہے لیکن عدالتی حکم میں حکومت کو ایسے کسی بھی حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان اور منصوبے شروع کرنے سے روک دیا گیا ہے جہاں ضمنی انتخابات ہو رہے ہوں یا ہونے والے ہوں۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ تحریک انصاف اِس فیصلے کے حق میں ہے۔

اسی بارے میں