’سول اداروں کے اختیارات فوج کے حوالے کرنا بدقسمتی ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اپنی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اس کے اختیارات فوج کو دے دیے جائیں: فرحت اللہ بابر

پاکستان کے ایوان بالا میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ سویلین اداروں کا کردار تشویشناک حد تک کم کر دیا گیا ہے۔

مسکراتے راحیل شریف کا خوف

فوج کے بارے میں میڈیا محتاط کیوں؟

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ’یہ ہمارے لیے بدقسمتی کی بات ہوگی کہ اگر ہم سول اداروں کو تباہ ہونے سے نہ روک سکیں اور ان اداروں کے اختیارات فوجی حکام کے حوالے کرتے چلے جائیں۔‘

پیر کو دفاع سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں راولپنڈی میں فوج کے زیر انتظام چلنے والی نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے بل کے مسودے کی منظوری کے موقع پر اپنے اختلافی نوٹ پر فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ تمام ادارے آئین اور قانون کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیں سویلین اداروں پر ہونے والے حملوں کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کو مکمل اختیارات دے دیے جائیں گے اور میڈیکل کالجز کی نگرانی کرنے والے ادارے پی ڈی ایم سی یعنی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس مجوزہ بل کی منظوری سے نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کو ایسے تعلیمی اداروں میں ریگولیٹری باڈی کی حیثیت حاصل ہوجائے گی جو فوج کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اپنی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس کے اختیارات فوج کو دے دیے جائیں۔

حکمراں جماعت کے اتحاد میں شامل جمعت علمائے اسلام فضل الرحمنٰ گروپ کے مولانا عطا الرحمان نے فرحت اللہ بابر کی طرف سے اُٹھائے گئے تحفظات کی حمایت کی تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان تحفظات کے باوجود وہ بھی بل منظور ہونے سے نہیں روک سکتے۔

اسی بارے میں