کراچی میں ہر ملزم، اسلحہ ڈیلرز کا بائیو میٹرک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈی آئی جی سلطان خواجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے تحت اگر کوئی شہری اپنے ملازم کی تھانے پر رجسٹریشن کرانا چاہتا ہے تو تو اس کا بائیو میٹرک رکارڈ رکھا جائے گا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں محکمہ پولیس نے تھانوں میں بائیو میٹرک فنگر پرنٹس نظام متعارف کرادیا ہے، ان تھانوں کو جیل خانوں اور قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا سے منسلک کردیا گیا ہے۔

کراچی میں منگل کو کرمنل مینجمنٹ سسٹم کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبے کے خالق ڈی آئی جی ایڈمن سلطان خواجہ نے تقریب کو بتایا کہ جب وہ ڈی آئی جی سی آئی اے تھے تو وہاں اکثر ملزمان لائے جاتے اور ان کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور یہ سب کچھ روایتی انداز میں ہوتا تھا وہاں سے انھیں یہ خیال آیا کہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور بائیو میٹرک نظام مععارف کرایا جائے۔

’اس نظام کے تحت جو بھی ملزم تھانے میں آئےگا، اس کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور شناختی کارڈ کی تصدیق کرائی جائے گی۔ پولیس کی کوشش ہے کہ ایف آئی آر شناختی کارڈ کی بنیاد پر دائر کریں اس کے علاوہ سمن اور وارنٹس کا اجرا بھی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہو۔‘

انھوں نے بتایا کہ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم گزشتہ ایک سال سے کام کر رہا ہے، جو اس وقت تین زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی سی آئی اے اور پولیس کےمرکزی دفتر سے لنک ہے اب اس کو شہر کے 105 تھانوں تک لے جایا جارہا ہے اس سے پہلے 1200 سے زائد ملزمان کی انٹری کی جاچکی ہے۔

یہ تمام سسٹم تھری جی ٹیکنالوجی کی مدد سے آپس میں منسلک ہوں گے، آنے والے وقت میں سندھ بھر کے تھانوں کو کنیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی سلطان خواجہ کے مطابق تھانوں کے علاوہ شہر میں موجود اسلحہ ڈیلرز کو بھی مرکزی پولیس دفتر کے ساتھ منسلک کیا جارہا تھا کہ اس بات کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جائے گی کہ روزانہ کتنا اسلحہ فروخت ہوا اور کس کس نے خرید کیا۔

آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ کراچی میں بے انتھا اسلحہ موجود ہے اس نظام کی بدولت شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ یہ معلوم ہوسکے گا کہ جہاں جہاں اسلحہ استعمال ہوا وہ لائسنس یافتہ تھا یا نہیں۔

شہر میں موجود نجی سیکیورٹی کے اہلکاروں کا بھی پولیس اب ریکارڈ رکھے گی، ڈی آئی جی سلطان خواجہ کے مطابق موجودہ وقت شہر میں ہزاروں سیکیورٹی گارڈز موجود ہیں۔ ان کی بایو میٹرک رجسٹریشن کی جائیگی اور جس طرح سروس ریکارڈ بنایا جاتا ہے اسی طرح ان گارڈز کے پروفائیل بنائے جائیں گے۔

ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا کہنا ہے کہ اس نظام کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ سندھ پولیس چوکیدارانہ نظام سے نکلے اور ٹیکنالوجی کی جانب جائے۔

” تھانے میں کوئی آدمی آتا تھا کہ میرا نام فلاں ہے، ہمیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ آدمی جو نام بتا رہا ہے وہ ہی ہے یا کوئی اور۔ عدالت میں جاکر نام بدل جاتا تھا جبکہ جیل اور کوئی چلا جاتا تھا۔ اب کرائیم سین سے لیکر تھانے میں جو بھی ملزم آئیگا اس کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور اسے عدالت، محکمہ جیل خانہ جات اور نادرا کے ریکارڈ سے میچ کیا جائے گا۔

ڈی آئی جی سلطان خواجہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے تحت اگر کوئی شہری اپنے ملازم کی تھانے پر رجسٹریشن کرانا چاہتا ہے تو تو اس کا بائیو میٹرک رکارڈ رکھا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ شہر میں 1500 سے زائد ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز ہیں۔ ان میں مہمانوں کی رجسٹریشن کو بھی مانیٹر کیا جائے گا۔ ان تمام ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کو اپنا سسٹم لگانا ہوگا جس کے ذریعے مہمانوں کے بائیو میٹرک فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اس کے ذریعے یہ معلومات مل سکیں گی کہ کس عمر اور کس علاقے کے لوگ ان ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہتے ہیں۔

آئی جی غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ کرمنل ریکارڈ ، پولیس سٹیشن کا ریکارڈ، جیل کا ریکارڈ اور اسلحہ ڈیلرز کا ریکارڈ بن جاتا ہے اور نادرا کے ساتھ لنک ہوتا ہے تو اس سے یقیناً امن و امان پر مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں