’15سال کی عمر میں قتل کے جرم میں پھانسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور حملے کے بعد سے اب تک پاکستان میں 230 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں ایک نوجوان انصر اقبال کو ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں پھانسی دی گئی ہے، جن کا دعوی تھا کہ واردات کے وقت اُن کی عمر صرف 15 برس تھی۔

قتل کے مجرم انصر اقبال کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 1994 میں کرکٹ کے میچ کے دوران جھگڑے پر اپنے ایک ہمسائے کو مار ڈالا تھا۔

پاکستان میں سزائے موت کے پسِ پردہ المیہ

انصر اقبال کے وکیل منیر احمد بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ انصر نے عدالت میں اپنا ب فارم، سکول سرٹیفکیٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ جمع کروایا جس کے مطابق جرم کے وقت ان کی عمر 16 سال سے کم تھی۔

لیکن اِس کے باوجود مجرم کی سزا کم نہ ہو سکی کیونکہ پولیس کی تفتیش کے مطابق جرم کے وقت انصر کی عمر 22 سال تھی۔

اُدھر قانونی امداد کے برطانوی ادارے ’ریپریو‘ نے بھی نادرا کی مہیا کردہ دستاویزات کی بنا پر موقف اِختیار کیا ہے کہ واردات کے وقت مجرم کی عمر صرف 15 سال تھی لیکن عدالت کا کہنا تھا کہ عمر کا ثبوت مہیا کرنے کے لیے نادرا کی دستاویزات بروقت جمع نہیں کرائی گئیں۔

مجرم کے وکیل منیر احمد کا کہنا ہے کہ نادرا کے بھی کسی نمائندے کو جرح کے لیے عدالت نے طلب نہیں کیا اور صرف پولیس کے بیان کو تسلیم کر لیا گیا جبکہ انصر کے ساتھی مجرم کی عمر بغیر کسی دستاویزات کے 17 برس تسلیم کر لی گی۔

یاد رہے کہ 2008 سے پاکستان میں سزائے موت پر ایک غیر علانیہ پابندی لگی ہوئی تھی اور پاکستان اُس بین الاقوامی قانون کی اطاعت بھی کرتا رہا تھا جس کی رُو سے کم عمر مجرموں کو پھانسی کی سزا نھیں دی جا سکتی تاہم گذشتہ برس پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پھانسیوں پر سے پابندی اُٹھا لی گئی جس کے بعد اب تک 230 سے افراد کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

اِس سے قبل بھی سزائے موت کے ایک قیدی شفقت حسین کی عمر کے بارے میں سوالات اُٹھائے گے تھے اور اُس کی پھانسی کو متعدد بار موخر کیا گیا تھا لیکن آخر کار 27 جولائی کو پانچویں بار شفقت حسین کا بلیک وارنٹ جاری ہوا جس پر چار اگست کو عمل کر دیا گیا۔

اسی بارے میں