کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوجی سعید خان نے ڈیوٹی پر موجود اپنے پانچ فوجیوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا

سپریم کورٹ نے پاکستانی فوج کے ایک سپاہی کی طرف سے کورٹ مارشل کے فیصلے کےخلاف دائر کی جانے والی اپیل مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔

فوجی سعید خان پرالزام تھا کہ اُنھوں نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں دوران ڈیوٹی پر پانچ فوجیوں کو سرکاری بندوق سے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا جس کے بعد اُنھیں گرفتار کر کے اُن کا کورٹ مارشل کیا گیا۔

کورٹ مارشل کے دوران جرم ثابت ہونے پر مجرم کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جس کے فیصلے کے خلاف اُنھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مجرم سعید خان کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم چودھری کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کےخلاف جو کورٹ مارشل کی کارروائی کی گئی ہے وہ آئین کےآرٹیکل دس اے پر پورا نہیں اترتی جس کے مطابق اُن کے موکل کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ ملزم کو سماعت کے دوران صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیےگئے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ مجرم نے ڈیوٹی کے دوران فائرنگ کرکے اپنے پانچ ساتھیوں کو قتل کردیا تھا۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد کورٹ مارشل کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا۔