ٹانک فائرنگ سے تین پولیس اہلکار اور دو مفرور ملزم ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پولیس نے چھاپہ بخت جمال نامی ایک شخص کی گرفتاری کے لیے لگایا تھا لیکن اس کارروائی میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں ایک چھاپے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو مفرور ملزم ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقع آج صبح سویرے ضلع ٹانک میں عمر اڈا کے قریب کڑی عمر خیل کے مقام پر پیش آیا۔

دہشت گردی کے واقعات میں 60 فیصد کمی

ٹانک سے پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے اہلکار انسپکٹر عالمگیر کے ساتھ مطلوب افراد کو گرفتار کرنے گئے تھے۔

’پولیس کے پہنچنے پر مطلوب افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی جس میں تین سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

ان سپاہیوں کے نام عبدالقیوم ، عدنان اسلم اور جہانزیب بتائے گیے ہیں۔

مفروروں کی فائرنگ سے انسپکٹر عالمگیر سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ٹانک پولیس کے اہلکار قدرت اللہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس میں دو مفرور کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ دیگر فرار ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے چھاپہ بخت جمال نامی ایک شخص کی گرفتاری کے لیے لگایا تھا لیکن اس کارروائی میں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

عمر اڈا ٹانک سے کوئی سات کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے اور یہ بھٹنی قبیلے کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ چونکہ یہ چھاپہ صرف ایک قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب مفرور کو گرفتار کرنے کے لیے لگایا گیا تھا اس لیے پولیس کو یہ توقع نہیں تھی کہ ان پر فائرنگ کر دی جائے گی۔

اس کے علاوہ ادھر پشاور میں تھطانہ کوتوانی کی حدود میں نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقع رات دیر سے پیش آیا اور مقتول کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات ہیں کہ موٹر سائیکل سواروں نے یہ کارروائی موبائل فون چھیننے کے لیے کی لیکن مزاحمت پر سردار نامی اس شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

ادھر پولیس نے عید کے دنوں میں بھی پشاور کے مختلف علاقوں میں چھاپے لگائِے اور دو درجن سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے ۔

اسی بارے میں