’کسانوں کے لیے پیکیج انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف نے کسانوں کے لیے 40 ارب روپے سے زیادہ کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے کسانوں کے لیے پیکیج کے اعلان کو خلافِ ضابطہ قرار دیتے ہوئے پیکیج کے تین حصوں پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔

یہ پابندی صوبہ پنجاب اور سندھ میں اس سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک ہوگی۔

کسان پیکیج کی درپردہ سیاست

کنونشن سنٹر میں گنّے کی گونج

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے ان دو بڑے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ تین دسمبر کو مکمل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے 15 ستمبر کو ملک بھر کے کسانوں کے لیے 40 ارب روپے سے زیادہ کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔

اس پیکیج کے جن تین حصوں پر عمل درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں بارہ ایکڑ تک اراضی کے مالک کسانوں کے لیے پانچ ہزار روپے فی ایکڑ امداد، چاول اور کپاس کے کاشت کاروں کو دیے جانے والے قرضوں پر مارک اپ میں دو فیصد کمی کے علاوہ فی ایکڑ زرعی قرضے میں دو ہزار روپے کا اضافہ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN
Image caption کسان پیکیج کے تین حصوں پر عمل درآمد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے تک روک دیا گیا ہے

وزیرِاعظم کی طرف سے کسان پیکیج کے اعلان کے بعد حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن سے پہلے دھاندلی قرار دیا تھا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق کسان پیکیج کا اعلان بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے اور اس پیکیج کی ضرورت سے زیادہ تشہیر بھی کی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ کسان پیکیج کے جن حصوں پر عمل درآمد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے تک روک دیا گیا ہے وہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر کا حصہ نہیں تھے اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ فائنانس بل کا حصہ ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی اور سیکرٹری اطلاعات کو بھی طلب کیا تھا جنھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ کسان پیکیج صرف دو صوبوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے کسانوں کے لیے تھا۔

اسی بارے میں