’مسائل الزام تراشی سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے کشمیریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مسائل الزام تراشی سے نہیں مذاکرات سے حل کیے جاسکتے ہیں۔

نیویارک میں ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے جس سے پورے خطے میں امن اور استحکام آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغان قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے پیر کی رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ سرحد پار سے حملے کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے شدت پسند ان کے ملک میں حملہ کر کے جنگ سے دوچار غربت زدہ ملک کو کمزور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض حملے سرحد پار سے ہوتے ہیں اور ’ہم پاکستان سے وہ کرنے کو کہہ رہے ہیں جن کا چند ماہ قبل ان کے رہنماؤں نے ہم سے کرنے کا وعدہ کیا تھا، انھوں نے معلوم شدہ شدت پسندگروہوں کے خلاف کارروائی پر اتفاق کیا تھا۔‘

اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے کشمیریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کے حق میں ہے تاہم یہ عمل سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے سے مکمل نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں