بہتر مستقبل کے متلاشیوں کی تابوتوں میں واپسی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے پاکستانیوں میں سے آٹھ کی وطن واپسی بند تابوتوں میں ہوئی ہے۔

یہ آٹھوں افراد تارکینِ وطن کی اس کشتی کے سوار تھے جو لیبیا سے اٹلی جاتے ہوئے 26 اگست کو سمندر میں ڈوب گئی تھی۔

’ کوڑے سے اٹھا کر کھا لیں، مگر اس راستے پر نہ آئیں‘

اس حادثے میں سو سے زیادہ غیر ملکیوں کے علاوہ ان آٹھ افراد سمیت 20 پاکستانی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے پانچ پاکستانیوں کو تو اٹلی میں ہی دفنا دیا گیا جبکہ جھنگ، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کی لاشیں بدھ کو لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچیں جنھیں قانونی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔

اس موقع پر ہوائی اڈے پر موجود کمشنر برائے سمندر پار پاکستانی افضال بھٹی کا کہنا تھا ’جو لوگ بھی انسانی سمگلنگ میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

دوسری جانب ہلاک ہونے والوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پیاروں کو پاکستان میں ہی روزگار میسر آ جاتا تو وہ غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک جانے کی کوشش کیوں کرتے؟

Image caption اقوامِ متحدہ کی گذشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے

ہلاک ہونے والے محمد نواز کے بھائی بشارت اللہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے بیشتر لوگ مفلس اور غریب ہیں اور جب ان کے علاقے میں انسانی سمگلنگ کا کاروبار کرنے والے کارکن نے انھیں بیرون ملک نوکری کے سنہرے خواب دکھائے تو گھر والوں نے محمد نواز کو بیرونِ ملک بھیجنے پر اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر ڈالی۔

بشارت اللہ نے کہا ’ہم نے ان لوگوں کو پانچ لاکھ روپے دیے تھے ہمارے بھائی کو کشتی پر بھیجنے کے لیے، لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا اس کے ساتھ ایسا سلوک ہو گا۔ یہ لوگ غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں، دکھاتے کچھ اور ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کی گذشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے اور یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ جانے والے پاکستانیوں کی شرح میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ صرف ان لوگوں کی تعداد ہے جو پکڑے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیے گئے ہیں۔

ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کا کہناہے کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ اور ٹریفکنگ کے معاملات بڑھنے کی وجہ یہاں سے نقل مکانی کرنے کی وجوہات بننے والے عناصر میں اضافہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس ( انسانی سمگلنگ) کی روک تھام کے لیے وہ جدید مشینری بھی نہیں ہے جو یورپی ممالک میں پائی جاتی ہے۔‘

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق سب سے زیادہ خطرناک انسانی سمگلنگ رنگ مرکزی پنجاب میں کام کر رہے ہیں جو لوگوں سے لاکھوں روپے کے عوض انھیں بھیڑ بکریوں کی طرح خطرناک راستوں سے کوئٹہ، پھر ایران کے تفتان بارڈر اور وہاں سے ماکو کے پہاڑوں سے ترکی پہنچاتے ہیں۔

یہ سفر پیدل ، کشتیوں میں اور کبھی تو سامان لے جانے والے کنٹینرز میں کیا جاتا ہے۔ راستہ اتنا دشوار ہے کہ اکثر لوگ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی مارے جاتے ہیں یا پھر سرحد پرگرفتار ہو جاتے ہیں۔

لیکن ان مشکلات کے بارے میں ان غریبوں کو کچھ نہیں بتایا جاتا جو ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور مفلسی کے شکنجے سے نکلنے کے لیے جان اور مال دونوں داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔

اسی بارے میں