’بینظیر بھٹو کی سکیورٹی بہتر تعلقات سے مشروط کی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو 27 دسمبر سنہ 2007 میں اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئیں تھیں

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں استغاثہ کے اہم گواہ اور امریکی شہری مارک سیگل نے جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بیان ریکارڈ کروادیا ہے۔

’بینظیر قتل کیس کی ایف آئی آر سے دستبردار نہیں ہوں گے‘

راولپنڈی کے کمشنر آفس میں عارضی طور پر قائم کی گئی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کراوئے گئے اس بیان میں امریکی شہری کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے اُنھیں بتایا تھا کہ ’سنہ 2007 میں اُس وقت کے صدر پرویز مشرف نے ٹیلی فون کرکے کہا تھا کہ پاکستان آنے کی صورت میں اُن کی (بے نظیر بھٹو) کی سکیورٹی اُن (مشرف) کے ساتھ بہتر تعلقات سے مشروط ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ 18 اکتوبر سنہ 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو جب کراچی پہنچی تھیں تو اس وقت بھی ان کی سکیورٹی کے لیے جو جیمرز دیے گئے تھے وہ بھی ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرر ہے تھے کیونکہ اس ٹرک پر لوگ موبائل پر لوگوں سے باتیں کرر ہے تھے۔

مارک سیگل کا مزید کہنا تھا کہ ’کراچی میں بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پرہونے والے خود کش حملوں کے بعد سابق وزیر اعظم پریشان تھیں جس کے بعد اُنھیں نے 26 اکتوبر کو اُنھیں ایک ای میل کے ذریعے بتایا تھا کہ اُن کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اُنھیں پرٹوکول کے مطابق سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور اگر اُنھیں کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پرویز مشرف پر ہوگی۔‘

کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کے مطابق مارک سیگل بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئے۔

کمرہ عدالت میں موجود پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے مارک سیگل پر جانبداری کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ سابق وزیر اعظم کی لابی کرنے والوں میں شامل ہیں لہٰذا اُن کا بیان ریکارڈ نہ کیا جائے تاہم انسداد دہشت گردی کے جج ایوب مارتھ نے اس اعتراض کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے جو بھی پوچھنا ہے وہ گواہ پر جرح کے دوران پوچھ سکتے ہیں۔

سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ملزم پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر ایسے ٹیلی فون کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کرسکے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُن کے موکل نے بے نظیر بھٹو کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مارک سیگل جس ای میل کا ذکر کرر ہے ہیں اُنھیں مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

اس مقدمے کی سماعت پانچ اکتوبر تک ملتوی کردی گئی اور اسی روز مارک سیگل پر ان کے بیان کی روشنی میں جرح کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو 27 دسمبر سنہ 2007 میں اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئیں تھیں۔ اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت آٹھ ملزمان پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔ ملزم پرویزمشرف اس مقدمے میں ان دنوں ضمانت پر ہیں۔

اسی بارے میں