بینظیر قتل کیس: مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک کےذریعے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے اس مقدمے کے مدعی پولیس انسپیکٹر کاشف ریاض کا بیان قلمبند کیا گیا

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں امریکی شہری مارک سیگل کا بیان آج یعنی جمعرات کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔

امریکی شہری واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں جاکر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی شہری کا بیان راولپنڈی کے کمشنر آفس میں عارضی عدالت قائم کی گئی ہے جس میں مارک سیگل اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنی موت سے دس روز پہلے مارک سیگل کو جو ای میل بھیجی تھی اُس میں کہا گیا تھا کہ اُن کی جان کو سخت خطرات لاحق ہیں۔

وکیل استغاثہ کے مطابق اس ای میل میں بینظیر بھٹو نےیہ بھی کہا ہے کہ اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے اُنھیں سکیورٹی کے لیے نہ تو جیمرز دیے ہیں اور نہ ہی اُنھیں دی جانے والی گاڑی کے لاک ٹھیک ہیں۔

اُنھوں نے ای میل میں سابق وزیر اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیبظیر بھٹو نے مارک سیگل سے کہا تھا کہ اگر اُنھیں کچھ ہو جائے تو اس ای میل کو عام کردیا جائے۔

اس سے پہلے اس مقدمے کے مدعی پولیس انسپکٹر کاشف ریاض کا بیان قلمبند کیا گیا جس میں اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو سکیورٹی خدشات سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا، تاہم پولیس نے اُن کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے تھے۔

اسی بارے میں