’شجاع خانزادہ کے قتل میں ملوث چار شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ہلاک ہونے والے افراد کے نام انسداد دہشت گردی کے محکمے کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقے شیر کوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مقابلے میں فائرنگ کر کے چار مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کے قتل میں ملوث ہیں۔

’شجاع خانزادہ سیدھی بات کرنے کے عادی تھے‘

وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ خودکش حملے میں ہلاک

خانزادہ قتل: نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ

انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ لاہور کے علاقے میں کچھ شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی ہے جس کے بعد جمعرات کو علی الصبح قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے چھاپا مارا۔

اہلکار کے مطابق پہلے مبینہ شدت پسندوں کو وارننگ دی گئی کہ وہ ہتھیار پھینک کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیں تاہم اس کے برعکس پولیس پارٹی کو دیکھ کر شدت پسندوں نے اُن پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق اس واقعہ میں جو افراد ہلاک ہوئے ہیں اُن کی شناخت فیاض، امجد، صدام اور صداقت کے نام سے ہوئی ہے جبکہ تین سے چار شدت پسند جائے حادثہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جائے حادثہ سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ سرکاری حکام کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہلاک ہونے والے ان افراد کے نام انسداد دہشت گردی کے محکمے کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بھی شامل ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات پولیس کے علاوہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے اہلکار بھی کر رہے ہیں۔

مشترکہ تحققیاتی ٹیم نے اس سے پہلے اس قتل کے مقدمے کے اہم رکن قاسم معاویہ کو گرفتار کیا تھا جنھوں نے دوران تفتیش اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کے قتل کی منصوبہ بندی کالعدم تحریک طالبان کے مقامی گروہ قاری سہیل گروپ نے کی تھی۔

ملزم کے بقول قاری سہیل نے خودکش حملہ آور کو کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کے ڈیرے کے قریب ٹھرایا تھا جس میں مقامی سہولت کاروں کی بھی معاونت حاصل تھی۔

قاسم معاویہ ان دنوں جسمانی ریمارنڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ واضح رہے کہ شجاع خانزادہ 17 اگست کو ایک خودکش حملے میں 16 افراد سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں