’ماں مجھے واپس بلا لو ورنہ۔۔۔‘

Image caption عبدالمعروف نے کہا کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت کہاں پر ہے لیکن یہاں پر ہر طرف ریت ہی ریت ہے اور اُنھیں کھانے کو بھی کچھ نہیں دیا جارہا

آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے بیرون ملک جانے والے 27 سالہ نوجوان عبدالمعروف کی والدہ کا کہنا ہے کہ اگر انھیں معلوم ہوتا کہ لاکھوں روپے دے کر اپنے اکلوتے بیٹے کی لاش ملنی ہے تو وہ یہ گھاٹے کا سودا کبھی بھی نہ کرتیں۔

عبدالمعروف کی لاش بھی اُن آٹھ افراد کی لاشوں میں شامل تھی جو چند روز قبل اٹلی کے مردہ خانے سے پاکستان لائی گئی تھیں۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات سے تعلق رکھنے والی کوثر شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ عبدالمعروف دو سال کا تھا جب اُن کے شوہر کا انتقال ہوگیا جس کے بعد اُنھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی بہتر پرورش کے لیے دوسری شادی نہیں کی اور محلے داروں کے گھروں میں کام کرکے اور ان کے کپڑوں کی سلائی کرکے بسر اوقات کیا۔

’میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عبدالمعروف کو محلے میں ایک کریانے کی دکان کھول کر دی لیکن وہاں پر اس نے دلچسپی ظاہر نہیں کی جس کے بعد عبدالمعروف نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ میرے بارہا منع کرنے کے باوجود وہ باہر جانے پر بضد تھا جس کے سامنے مجھے بھی ہتھیار ڈالنا پڑے۔‘

پروین شاہین کے مطابق گجرات کے علاقے دیونہ منڈی کے ایک ایجنٹ زمان گجر کے توسط سے اُس نے اپنے بیٹے کو اٹلی بھجوانے کے لیے پانچ لاکھ روپے اور یہ ساتھ کہا کہ اس کے بیٹے کو لانچوں کے ذریعے نہیں بلکہ جہاز کے ذریعے بجھوانا۔

Image caption شاہین بی بی نے اپنے بیٹے سمیت دیگر افراد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اپنی تمام تر اُمیدیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف پر لگا رکھی ہیں

اُنھوں نے بتایا کہ جون کے آخری ہفتے میں دبئی تک تو ان کے بیٹے کو جہاز پر لے جایاگیا جس کے بعد ان کا ایک ماہ تک اپنے بیٹے سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔

شاہین بی بی کے بقول وہ اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوکر نہ صرف ایجنٹ کے گھر کے چکر لگاتی رہی بلکہ علاقے کے لوگوں کو بھی ساتھ لے کرگئیں جبکہ زمان گجر مزید پیسوں کا مطالبہ کرتا رہا۔

اُنھوں نے کہا کہ کچھ عرصے کے بعد جب ان کا اپنے بیٹے سے رابطہ ہوا تو عبدالمعروف نے کہا کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت کہاں پر ہے لیکن یہاں پر ہر طرف ریت ہی ریت ہے اور اُنھیں کھانے کو بھی کچھ نہیں دیا جا رہا۔

اُنھوں نے کہا کہ عبدالمعروف نے بتایا کہ جس جگہ اسے رکھا گیا ہے وہاں پر ایک ہزار سے زیادہ افراد قید ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔

پروین شاہین نے بتایا کہ جب اُن سمیت دیگر افراد گھروں کو واپس جانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

شاہین بی بی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور سسکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو آخری بات ہوئی تھی کہ ’ماں مجھے واپس بلا لو ورنہ یہ لوگ مجھ سمیت دیگر افراد کو مار دیں گے‘۔

Image caption اپنے بیٹے کو وہاں سے چھڑانے کے لیے پانچ لاکھ روپے مزید اُدھار مانگ کر ٹریول ایجنٹ کو دیے تھے لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا

اُنھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو وہاں سے چھڑانے کے لیے پانچ لاکھ روپےمزید اُدھار مانگ کر ٹریول ایجنٹ کو دیے تھے لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

شاہین بی بی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے دنیا کی تمام چیزیں بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ محلے والے اُنھیں دو وقت کی روٹی دے دیتے ہیں اور اب وہ اپنی زندگی کے دن پورے کرر ہی ہیں۔

شاہین بی بی نے اپنے بیٹے سمیت دیگر افراد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اپنی تمام تر اُمیدیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف پر لگا رکھی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے جس طرح ملک میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے اُسی طرح انسانی سمگلروں کا بھی صفایا کردیا جائے تاکہ مستقبل میں ماؤں کے بچے اس طرح بےموت نہ ماری جائیں جس طرح ان کا بچہ مرا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریول ایجنٹ زمان گجر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم اس کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں آئی۔

اسی بارے میں