’راولپنڈی کے بعد ملتان میں بھی ڈینگی وائرس کی وبا کا خطرہ‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں ڈینگی وائرس ایک وبا کی مانند پھیل رہا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں مریض آ رہے ہیں۔

حکام کو خدشہ ہے کہ اس کا اگلا ہدف ملتان شہر بن سکتا ہے جہاں آج یعنی جمعہ کو 36 مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی۔

’اچھے مچھروں سے ڈینگی کا خاتمہ‘

راولپنڈی کے دو بڑے سرکاری ہسپتال ہولی فیملی اور بینظیر بھٹو شہید ہسپتال (بی بی ایچ) میں ڈینگی کے 144 مریض زیر علاج ہیں۔

راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے لیے الگ سینٹرز قائم کیےگئے ہیں۔ تاہم ان ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے موجودہ عملہ کم ہے اور دوسرے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے اور ممکنہ طور پر دیگر ہسپتالوں میں بھی ڈینگی وارڈز قائم کرنے پڑیں گے۔

ہولی فیملی ہسپتال میں اس وقت 95 مریض داخل ہیں جبکہ بینظیر بھٹو شہید ہسپتال (بی بی ایچ) میں جمعے کو مزید 49 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

بی بی ایچ میں زیرِ علاج ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں گذشتہ ایک ہفتے سے بیمار تھا اور یہاں اچھا علاج ہو رہا ہے، خون کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور معدے کا الٹرا ساؤنڈ بھی کر رہے ہیں۔‘

اسی وارڈ میں موجود مریض زبیر نے بتایا کہ ’میرے والد اور بھائی کو ڈینگی ہوا تھا وہ ٹھیک ہو کر چلے گئے ہیں۔ لیکن میرے ٹیسٹ سے پہلے ڈاکٹروں نے بتایا کہ ڈینگی ہے بعد میں کہا کہ ٹیسٹ کلیئر ہیں ابھی صحیح پتہ نہیں چل رہا۔‘

ہسپتال میں روات سے آنے والی شمسہ نے بتایا کہ ان کے علاقے میں ڈینگی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن نہ تو وہاں موجود ڈسپنسری میں علاج کی سہولت ہے اور نہ ہی ڈینگی کے خاتمے کے لیے سپرے کرنے والی ٹیمیں موثر انداز میں اپنا کام کر رہی ہیں۔

Image caption لاہور اور فیصل آباد میں صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم راولپنڈی اور ملتان میں اس سے بچاؤ کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں: صوبائی حکومت

ماہرینِ طب کے مطابق پاکستان میں ڈینگی وائرس 2006 میں شروع ہوئی تاہم 2011 کے بعد اس وائرس نے ملک میں وبا کی صورت اختیار کر لی۔

ڈینگی کے انسداد کے لیے قائم شعبہ ہیلتھ اینڈ ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر وسیم اکرم نے بتایا کہ ’عموماً ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں ڈینگی کے کیسز زیادہ سامنے آتے ہیں تاہم اس بار جلد بارشوں کی وجہ سے وائرس جلد پھوٹا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کی نسبت صوبہ سندھ میں ڈینگی کے زیادہ کیسز موجود ہیں اور پوری دنیا کے متاثرہ ممالک کی نسبت پاکستان میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد کم ہے۔

انسدادِ ڈینگی کے لیے صوبائی ڈائریکٹر برائے کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرینگ نجیب اللہ نے بتایا کہ مطابق ’لاہور اور فیصل آباد میں صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم راولپنڈی اور ملتان میں اس سے بچاؤ کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں