’خواجہ سرا کے خوف سےٹیکس دینے پر تیار‘

پاکستان کے شہر کراچی کی رہائشی خواجہ سرا اکبری کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے محکمۂ محصولات میں ٹیکس وصولی کے عملے میں شامل ہیں۔ اسی محکمے میں ان کے ساتھ سات اور خواجہ سرا بھی کام کرتی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج سے چھ سال پہلے اپنے ایک فیصلے میں خواجہ سراؤں کو برابر کا شہری تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایسی حکمتِ عملی ترتیب دے جس سے خواجہ سراؤں کو متبادل روز گار مل سکے۔

عدالت نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے انھیں ٹیکس وصولی کے محکموں میں بھرتی کی تجویز بھی دی تھی۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد سندھ میں کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے محکمۂ محصولات میں آٹھ خواجہ سراؤں کو ٹیکس وصولی کے لیے بھرتی کیا گیا۔

ان آٹھ خواجہ سراؤں میں ایک اکبری بھی ہیں۔ وہ خود کو محکمے کے لیے ایک اہم اثاثہ سمجھتی ہیں۔

اپنے کام کے بارے میں بتاتی ہیں کہ اپنے دروازے پر خواجہ سرا کو دیکھ کر لوگ ٹیکس بھرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

’جب ہم ریکوری کے لیے کسی کےگھر جاتے ہیں تو وہ گیٹ کھولتے ہی شرما جاتے،گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت آ گئی ہمارےگھر۔ہمیں دیکھ کر بولتے ہیں کہ ہم ٹیکس بھر دیں گے پلیز آپ ان کو یہاں سے لےجائیں۔‘

اکبری نے اپنےمسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے ان کاگزارہ مشکل سے ہوتاہے۔

’ہمیں کوئی بس میں نہیں بٹھاتا جس کے باعث ہمیں رکشے سے آنا جانا پڑتا ہے جس میں 400 روپے کرایہ لگ جاتا ہے۔ گھرمیں چھوٹے بہن بھائی اور ان کے بچے ہیں جنھیں میں سپورٹ کرتی ہوں۔ اب 15 ہزار روپے میں یہ سب کیسے ہو۔ اسی لیے شام کو فنکشن میں جا کر ناچ گانا کر کے کچھ پیسے بنا لیتی ہوں جس سےگھر کا خرچہ پورا ہوتا ہے۔‘

خوجہ سرا اکبری کی کہانی پاکستان کے کسی بھی دوسرے خواجہ سرا کی کہانی سے مختلف نہیں ہے۔ انھیں ایک طرف اپنے اور اپنے گھر والوں کے اخراجات پورے کرنے کی فکر ہے تو دوسری جانب معاشرے میں صنفی امتیاز کا بھی سامنا ہے۔

خواجہ سراؤں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری صوبوں کے محکمۂ فلاح و بہبود کے سپرد ہے اور اس کے لیے انھیں فنڈز بھی فراہم کیے گئے۔

صوبہ سندھ میں اس محکمے نے خواجہ سراؤں کو مختلف پیشوں میں تربیت کے لیےکراچی، حیدرآباد اور سکھر میں سینٹرز کھول کے دیے۔ اِن سینٹرز کا بنیادی مقصد تو انھیں لکھنا پڑھنا، سلائی کڑھائی، کھانا بنانا، بیوٹیشن، ڈانس میوزک سمیت کمپیوٹر وغیرہ کا کورس کرانا ہے لیکن اکثر یہ جگہیں شیلٹر ہومز کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں۔

حکومتِ سندھ کی سرپرستی میں چلنے والے ان سینٹرز میں خواجہ سراؤں کی مختلف پیشوں میں تربیت کے لیے عملہ تو موجود ہے لیکن عموما یہ تربیتی مراکز ویران نظر آتے ہیں۔

سندھ کےمحکمۂ فلاح و بہبود کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد رحیم لاکھو سے بار بار اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو انھوں نےکہا کہ ایک تو خواجہ سراؤں میں ہنر سیکھنے کا جذبہ کم ہے اور دوسرا وہ چاہتے ہیں کہ تربیت کے دوران ان کا وظیفہ مقرر کیا جائے۔

خواجہ سراؤں کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ کم محنت میں باآسانی پیسے ملنے کی وجہ سے بھیک مانگنے سمیت ناچ گانے اور جسم فروشی کومحدود تنخواہ والی باعزت نوکری پر ترجیح دیتے ہیں۔

سندھ حکومت میں خواجہ سراؤں کی نمائندہ رفی خان نےاس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’خواجہ سرا کہتی ہیں کہ ہم کرایہ لگا کر ان سینٹرز سے کوئی کام سیکھ بھی لیں تو ہمیں کون سا نوکریاں دی جا رہی ہیں۔ہم بے چاری تو ماری جائیں گی نا۔اس سے بہتر نہیں کہ ہم بھیک مانگنے چلی جائیں تو سو پچاس مل ہی جائیں۔‘

واضح رہے کہ حکومتِ سندھ کے محکمہ فلاح و بہبود نے پچھلے چند سالوں میں صوبے بھر میں 2,500 سے زیادہ خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن کی ہے لیکن خود محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے صرف 14 خواجہ سراؤں کو سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں جن پر انھیں ابھی تک مستقل نہیں کیا جاسکا ہے۔

ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومتِ سندھ نے پچھلے چھ سالوں میں خواجہ سراؤں کی تربیت کرنے اور انھیں باعزت روزگار دلانے کے لیےکوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکبری جیسے نوکری پیشہ خواجہ سرا سمیت دیگر بے روزگار خواجہ سرا اب بھی سڑکوں پر بھیک مانگتے، ناچ گانا یا پھر جسم فروشی کرتے نظر آتے ہیں اور اسی کمائی سے اپنے اخراجات پورے کرنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں