’قانون کی حکمرانی ٹیکنالوجی پر مبنی پولیس کے ذریعے ممکن‘

  • 4 اکتوبر 2015
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر ہم سٹریٹیجک اعتبار سے سوچیں تو مستقبل ٹیکنالوجی پر مبنی پولیس (ٹی او پی) کا ہے

سکیورٹی حکام کی عمومی سوچ یہی ہے کہ شہری علاقوں میں لوگوں اور عمارتوں کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے سے تحفظ کا معیار بہتر ہو جاتا ہے۔

تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو دور رکھنے کے لیے نظر آنے والے سکیورٹی اقدامات پر ہی زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

اس کا ایک اور معاشرتی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کسی شخص کے ساتھ یونیفارم میں ملبوس اور مسلح گارڈز کی موجودگی اِس شخص کی سماجی حیثیت اور اثرو رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔

مزید براں کسی بھی خطرے کے ردعمل میں انسانی وسائل بروئے کار لائے جانے اور ہر صورت حال میں روایتی انداز میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعینات پر ہی انحصار کیا جانا کم خرچ تصور کیا جاتا ہے۔

بعض اوقات سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں کو نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن انسانی وسائل پر ہی زیادہ زور دیا جاتا ہے اور ٹیکنالوجی کا اسمتعال خال خال ہی ہوتا ہے۔

ہتھیاروں اور مسلح گارڈز کی نمائش کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن یہاں اِس بات کے بہت کم شواہد ملتے ہیں کہ انٹیلیجنس یا خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی عدم دستیابی کی صورت میں ان اقدامات سے اہم شخصیات اور اہم تنصیبات پر حملے روکنے میں مدد ملتی ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری علاقوں میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نظر آنے والے اقدامات سے خفیہ اقدامات یا ٹیکنالوجی کو بڑھانے پر توجہ دی جائے۔

دنیا کے بڑے بڑے شہروں لندن،گلاسکو، نیویارک، میکسیکو، نیروبی، دبئی اور قطر کی گلیوں اور شاہراوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی بڑھانے کے بجائے ایک مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے سے جدید کیمروں کی آنکھوں اور کانوں کا استعمال زیادہ کیا جا رہا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ طریقہ عام نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے زیادہ سرمائے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تاکہ سکیورٹی معلومات اکھٹی کرنے کے سارے نظام کو ہی ’ورچوئل‘ یا نظر نہ آنے والا بنا دیا جائے۔

لیکن اگر ہم سٹریٹیجک اعتبار سے سوچیں تو مستقبل ٹیکنالوجی پر مبنی پولیس (ٹی او پی) کا ہے۔

اِن تبدیلیوں کی پانچ وجوہات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہر پولیس افسر اور صف اول کے اہلکار کے پاس سمارٹ فون میں موبائل ایپلی کیشنز ہوں

اولاً، شہری آبادی کی شرح میں اضافہ اور شہروں میں بڑھتی ہوئی تعمیرات کی وجہ سے عوامی مقامات کی نگرانی کے لیے صرف انسانی وسائل پرانحصار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔اہم جگہوں پر کیمروں اور دیگر آلات کے استعمال سے سیکورٹی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالے اور اخراجات کو بڑھائے بغیر نگرانی کے دائر کار کو موثر اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔

دوم: نگرانی کے نظام کو خودکار بنا کر قانون کے نافذ میں انفرادی صوابدید اور تفاوت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ عوامی مقامات پر الیکٹرانک آلات نصب کرنے سے ہر خاص وعام کے خلاف بلاتفریق اور قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ہر مجرم کے خلاف اس کی معاشرے میں سماجی حیثیت، مقام اوراس کی گاڑی کے سائز اور برانڈ کو بھلا کر ای چالان کے ٹکٹوں کا اجرا کیا جائے۔

سوم: نگرانی کے جدید اور مربوط نظام کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو قبل از وقت معلومات مل جانے سے وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف زیادہ محفوظ اور پر اعتماد انداز میں اقدامات کر سکتے ہیں۔ ہر پولیس افسر اور صف اول کے اہلکار کے پاس سمارٹ فون میں موبائل ایپلی کیشنز ہوں تاکہ وہ مشتبہ نقل و حرکت کرنے والے کسی بھی فرد یا گاڑی کے بارے میں تمام تفصیلات حاصل کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نگرانی کے نظام کو خودکار بنا کر قانون کے نافذ میں انفرادی صوابدید اور تفاوت کو ختم کیا جا سکتا ہے

چہارم: سکیورٹی کے اِس نہ نظر آنے والے نظام کو مکمل طور مشینوں کے ذریعے سے نہیں چلایا جاتا۔ ہوشیار اور سمجھ دار افراد سمارٹ فون کا بہتراستعمال کرتے ہیں۔ نگرانی کے اس مربوط کمانڈ کنٹرول اور کمیونیکیشن کے مراکز کو چلانے والے پولیس افسران بہتر تربیت یافتہ اور قابل ہوں تاکہ وہ بڑے شہروں میں پیچیدہ صورت حال کو بہتر انداز میں نبٹ سکیں۔ فیصلہ سازی کے معیار اور وسائل کی تقیسم کو اعلیٰ اہلکاروں کی مراکز میں تعیناتی سے بہتر کیا جا سکتا ہے بجائے اس کے انھیں دکھاوے کے لیے فلیڈ میں اترا جائے۔

پانچواں: کیمروں کی تنصیب اور ہر حرکت کو ریکارڈ کرکے نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اِس سے تمام پولیس افسران کا احتساب بھی ممکن ہے اور عوامی ردعمل بھی کئی گناہ بڑھ سکتا ہے۔ اِس کا سب سے زیادہ فائدہ تفتیش کرنے والے اہلکاروں کو ہوگا۔ اِس سے چہرے کی شناخت کے ذریعے سے ذمہ داروں کی نشاندہی میں مدد ملے گی اور اِس کو عدالتوں میں ثابت کیا جا سکے گا جس کا وکیل صفائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔اس طرح ٹی او پی عدل کے نظام میں فیصلہ کن اضافہ ثابت ہو گا اور تمام شہری آبادی اِس سے مستفید ہوگی۔

خرچ اور فائدے کا تقابل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واں: کیمروں کی تنصیب اور ہر حرکت کو ریکارڈ کرکے نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

ابتدائی طور پر ہونے والے زیادہ اخراجات کو چار باتوں کے باعث درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

پہلا: جرائم میں کمی۔

دوسرا: ٹریفک حادثات کے دوران اموات میں کمی۔

تیسرا: ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر اقدامات کے ذریعے سے آمدنی میں اضافہ۔

چوتھا: شفاف نظام ، احتساب اور شہریوں کی سکیورٹی کے معاملات بہتر انداز میں چلا کر عوام کے اعتماد کو جیتا جا سکتا ہے۔

ابتدائی تین باتوں کے نتائج کا موازنہ تو مختصر مدت میں کیا جا سکتا ہے لیکن آخری اور سب سے اہم بات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی جانب سے مخلصانہ عمل کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

عوامی اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کے شہروں کی حفاظت کے لیے اس شفاف سکیورٹی کے نظام کو نفاذ کرنے میں بہت سے خطرات لاحق ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالتوں کو بھی الیکٹرانک ذرائع سے حاصل کرنے والے شواہد کو قبول کرنا ہو گا اور وکلا تنظیمیں اور بار کونلسز کو بھی اس بارے میں ساتھ دینا ہو گا

ترقی یافتہ ممالک میں عام شہریوں کی حفاظت کے آلات زیادہ تر شہری ترقی کی ضروریات کے عین مطابق تیار کیے جاتے ہیں، ان میں آبادی کی منصوبہ بندی اور معاشی ترقی کی بنیادی ساخت کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ فوربز اور ٹائمزکی جانب سے فراہم کردہ شواہد کے مطابق مثبت اقتصادی ترقی کے باوجود وسائل کی کمی اب بھی ایک چیلنج ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے لیے پولیس کا ردعمل اب بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے مثال کے طور پر اسلام آباد اور لاہور میں محفوظ شہری منصوبے میں۔

عملی طریقہ کار میں ڈرامائی تبدیلیاں اس وقت ہی ہو سکتی ہیں جب انتظامیہ میں تبدیلی کے لیے بھر پور انداز میں کوششیں کی جائے وگرنہ یہ اقدام ناقابلِ قبول خلیج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

عوام کا بہت بڑی سطح پر اشتراک بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام مالکان ہیں اور مالکان کو حیران نہیں کرنا چاہیے۔ بہتر خدمات روشناس کرنے کے لیے لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے پڑتا ہے جس کے لیے سوچ سمجھ کر حکمتِ عملی تیار کرنے اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں میڈیا اور عدالتوں کا کردار سامنے آتا ہے۔

میڈیا ان جدتوں یا تبدیلیوں سے لوگوں کو آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ان بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کے بارے میں عوامی رائے ہموار کرنے میں اس بھی اس کا کردار اہم ہے خاص طور پر جہاں عوامی رویے تبدیل کرنے کی ضرورت جیسے کہ ٹریفک سگنلز اور امن وامان کے معاملات میں۔

عدالتوں کو بھی الیکٹرانک ذرائع سے حاصل کرنے والے شواہد کو قبول کرنا ہو گا اور وکلا تنظیمیں اور بار کونلسز کو بھی اس بارے میں ساتھ دینا ہو گا اور روایتی انداز میں گواہوں کے زبانی بیانات کے علاوہ جدید طریقوں سے حاصل کیے گئے شواہد کو بھی مقدمات میں استعمال کرنا ہو گا۔ اگر یہ تمام عناصر اس پورے نظام کے اطلاق میں تعاون نہیں کرتے تو وہ خرابی کا باعث بنیں گے۔

یقیناً ہمیشہ مخالف نقطہ نظر اور افراد موجود ہوتے ہیں اگر اُن کے خدشات کو سامنے نہ رکھا جائے یا اُن کو اعتماد میں نہ لیا جائے تو وہ بگاڑ کا باعث بنیں گے۔

سب سے بڑا سوال: آخرصرف شہر ہی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے شہروں کی حفاظت کے لیے اس شفاف سکیورٹی کے نظام کو نفاذ کرنے میں بہت سے خطرات لاحق ہیں۔

کیا یہ شہری اور دیہی آبادی کے درمیان خلیج نہیں پیدا کرے گی۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹی او پی کی کچھ حدود ہیں کیوں یہ بہت مہنگا حل ہے اور اس کے دائر کار کو توسیع دینے کے بارے میں لندن جیسے میں بھی نہیں سوچا گیا۔

کچھ کیسوں میں ٹی او پی زیادہ موثر اور سود مند ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ انسانی ذرائع ہو سکتے ہیں۔ دیگر اہم عناصر کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ نظام کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

سکیورٹی کے اس نظر نہ آنے والے نظام کا مقصد فوت ہو جائے گا اگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنے کے لیے پولیس کی فعال ٹیم موجود نہ ہو یا وکلاء الیکٹرانک ذرائع سے حاصل شدہ ثبوتوں پر سوالات اٹھانا شروع کر دیں اور عدالتیں ایسے حالات کو مدنظر رکھتے جس سے مجرم کو فائدہ ہو سخت سزائیں سنانے سے گریز کریں۔

پاکستان جہاں ٹیکنالوجی ابھی روشناس کرائی جا رہی ہے وہاں معاشرے میں ان کے مثبت اثرات کا اندازہ روڈ سیفٹی اور عوامی رویوں میں تبدیلیوں سے لگایا جا سکتا ہے اس وقت ٹی او پی کی پنجاب پولیس کے مربوط کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹر کے لاہور کے پروجیکٹ آفس میں اطلاق کا سیاسی عزم موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان جہاں ٹیکنالوجی ابھی روشناس کرائی جا رہی ہے وہاں معاشرے میں ان کے مثبت اثرات کا اندازہ روڈ سیفٹی اور عوامی رویوں میں تبدیلیوں سے لگایا جا سکتا ہے

پنجاب کے پانچ شہروں ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور لاہور میں پی پی آئی سی فور متعارف کرانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کو بنایا گیا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ بہت بڑا اقدام ہے جس سے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کا کلچر بدل جائے گا۔ ٹی او پی پنجاب پولیس کا مستقبل ہے۔

مثبت تبدیلیوں کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرنے میں میڈیا کا مرکزی کردار ہوتا ہے لیکن میڈیا زمینی حقائق کو نہیں بدل سکتا ہے۔

حقیقی کامیابی کا دار و مدار کئی عوامل پر ہوتا ہے: عملی اور سیاسی سطح پر غیر معمولی قیادت:

پولیس کی جانب سے انتہائی توجہ سے عمل درآمد اور اُس کے ساتھ ساتھ کو دیگر عوامی محکموں کی بھرپور تاعید اور تعاون۔ اِن انقلابی تبدیلیوں پر عوامی ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا۔ یہاں عوام کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ پولیس کے نظام میں اس بڑی تبدیلی کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مصنف اکبر ناصر خان، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔

اسی بارے میں