بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دو تشدد زدہ لاشیں بر آمد

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختف علاقوں سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اتوار کو ملنے والے والی یہ لاشیں ایک سکول ٹیچر اور ایک پولیس کانسٹیبل کی تھیں۔

سکول ٹیچر کی تشدد زدہ لاش افغانستان سے متصل ضلع ژوب کے ہیڈ کوارٹر کے علاقے کلی شیخان سے بر آمد ہوئی۔

ژوب پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے سر اور چہرے پر گولیاں مارکر ٹیچر کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش پھینک دی تھی۔

سکول ٹیچر کے چہر ے پر پتھر بھی مارے گئے تھے جس کے باعث ان کا چہرہ مسخ ہو گیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ سکول ٹیچر تین روز قبل لاپتہ ہوئے تھے۔سکول ٹیچر کے لاپتہ ہونے اور ہلاکت کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

پولیس کانسٹیبل کی لاش ضلع آواران کے علاقے جھاؤ سے ملی۔

آواران میں انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل کو چار قبل آواران ٹاؤن کے علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش جھاؤ کے علاقے میں پھینک دی گئی تھی۔

کانسٹیبل کی لاش کو مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ان کی شناخت ’نظام‘ کے نام سے ہوئی۔

سکول ٹیچر اور پولیس کانسٹیبل کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

سنیچر کی شب ضلع قلات میں فائرنگ کے ایک واقعے میں لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

انتظامیہ کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکار ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے جا رہے تھے۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا اور صوبائی حکومت نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ 2014 کے دوران صوبے سے 164 ایسی لاشیں ملی ہیں۔

تاہم پاکستان میں لاپتہ بلوچ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ برس کے 455 افراد کی تشددزدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

اسی بارے میں