الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی مدت میں فروری کے وسط تک توسیع کر دی گئی ہے۔

لندن پولیس نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی مدت میں توسیع کی تصدیق کی۔

گزشتہ تقریباً تین سال سے جاری اس تفتیش کے سلسلے میں پیر کو لندن کے سدک پولیس سٹیشن میں الطاف حسین کی پیشی ہوئی۔

الطاف حسین کی پیشی کے دن پولیس سٹیشن کے باہر معمول سے زیادہ سکیورٹی تھی اور انھیں تھانے کے عقبی دروازے سے پولیس سٹیشن کے اندر لے جایا گیا۔

پاکستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی قومیت رکھنے والے الطاف حسین شمالی لندن کے علاقے ایج ویر سے اپنی جماعت کے اعلیٰ عہدے داروں فاروق ستار، محمد انور، ندیم نصرت اور جماعت کے قانونی ماہرین بیرسٹر فروغ نسیم اور بیرسٹر سیف کے ہمراہ تھانے پہنچے۔

الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں گذشتہ کئی سال سے تفتیش جاری ہے اور اسی بنا پر پیر کو ہونے والی پیشی کو خاصی اہمیت دی جا رہی تھی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر سنہ 2012 کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔

اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے یہ رقم ’پروسیڈ آف کرائم ایکٹ‘ کے تحت قبضے میں لی تھی۔

پولیس نے اٹھارہ جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مار اور اس میں بھی پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔

لندن پولیس ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس تحقیقات کے سلسلے میں پولیس کے اہلکار کئی مرتبہ پاکستان بھی جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں