منیٰ بھگدڑ: پاکستانی ہلاکتیں 80، سینیٹ میں سعودی حکام پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی حکام نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 1100حاجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حج کے دوران مچنے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 56 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

ادھر سینیٹ کے اجلاس کے دوران اراکین نے سعودی عرب میں جج کے دوران 700 سے زیادہ افراد کی ہلاکت پر سعوی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

منیٰ میں بھگدڑ سے ہلاکتیں: خصوصی ضمیمہ

وزارتِ مذہبی امور کی ویب سائٹ پر موجود ہلاک شدگان کی فہرست

وزارتِ مذہبی امور کی ویب سائٹ پر موجود لاپتہ افراد کی فہرست

پیر کو اسلام آباد میں اجلاس کے دوران سینیٹ کے اراکین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مذہبی امور کے وزیر مملکت پیر امیر الحسنات شاہ نے کہا پاکستانی حکومت لاپتہ حجاج کا پتہ لگانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر ہی ہے۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق انھوں نے بتایا ’جب بھگدڑ مچی تو پاکستان حج کمیشن نے پاکستانیوں کی فوری مدد کی اور چند لوگوں کو طبی امداد کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن بھی لایا گیا مگر کچھ دیر بعد ہی سعودی سیکورٹی اہلکار وہاں پہنچے اور ہائی کمیشن کا دفتر سیل کر دیا اور امداری کاروائیاں رکوا دیں۔‘

اس موقع پر سینیٹر عثمان خٹک نے کہا ’پاکستانی حکومت غیر ضروری طور پر سعودی حکام کا دفاع کر رہی ہے جو کہ ایک غلطی ہے۔‘

بحث کے دوران سینیٹر عثمان خٹک کا مزید کہنا تھا ’مرکزی حکومت نے سعودی عرب کے خلاف سخت موقف نہیں اختیار کیا بلکہ یہ کہا گیا کہ سعودی حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔‘

اجلاس کے دوران سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی سعودی تحقیقات پر نظر رکھے۔

انھوں نے کہا ’یہ ہمارے شہدا کی جانب ہماری ذمہ داری ہے کہ سعودی حکومت سے درخواست کی جائے کہ پاکستان کو بھی بتایا جائے کہ منی میں حجاج کی ہلاکت کیسے ہوئی۔‘

مذہبی امور کی ویب سائٹ پر پیر کی شب اپ ڈیٹ کی گئی فہرست کے مطابق 80 ہلاک شدگان میں سے 32 کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ دیگر 48 کی ہلاکت کی اطلاع وزارت کو دی گئی ہے۔

وزارت کے مطابق لاپتہ افراد میں سے آٹھ سرکاری سکیم کے تحت جبکہ 15 نجی ٹور آپریٹرز کی مدد سے حج کے لیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ دس پاکستانی ایسے ہیں جن کے پاس اقامہ یا سعودی عرب کا سیاحتی ویزا تھا جبکہ 23 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پاکستان، سعودی عرب یا دیگر ممالک سے کی گئی کالز کے نتیجے میں دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں