’استعفے سیاسی بنیاد پر تھے یا نہیں، اس کی تحقیق لازم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رضا ربانی نے استعفے نہ قبول کرنے کے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مختلف استعفوں سے متعلق نو مقدمات کے حوالے بھی دیے

پاکستان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکانِ سینیٹ کے استعفے یہ معلوم کیے بغیر قبول نہیں کیے جا سکتے کہ آیا یہ استعفے دانستہ طور پر دیے گئے تھے یا نہیں۔

انھوں نے یہ بات پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں متحدہ قومی مومینٹ کے استعفوں سے متعلق اپنی رولنگ میں کہی۔

ایم کیو ایم کا حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی، متحدہ کی تردید

رضا ربانی نے ایم کیو ایم کے استعفے قبول نہ کرنے کے آئینی اور قانونی جواز پیش کیے اور کہا ’چیئرمین سینیٹ یا قومی اسمبلی کے سپیکر پوسٹ آفس کی طرح کام نہیں کر سکتے ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ معلوم کیا جائے کہ کیا اراکین نے استعفے دانستہ طور پر دیے ہیں یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ کیا یہ استعفے سیاسی بنیاد پر دیے گئے یا نہیں، اس کی تحقیق کرنا لازم ہے۔‘

انھوں نے استعفے نہ قبول کرنے کے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مختلف استعفوں سے متعلق نو مقدمات کے حوالے بھی دیے۔

خیال رہے 16 ستمبر کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے سینیٹ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے استعفے قبول کرنے سے متعلق سوال اٹھایا تھا۔

ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی نے کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 22 اگست کو احتجاجاً سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفے دے دیے تھے۔

ایم کیو ایم کے استعفوں سے متعلق فیصلہ قومی اسمبلی میں بھی تاحال تعطل کا شکار ہے۔

استعفے سامنے آنے کے بعد حکومت نے ایم کیو ایم سے مذاکرات بھی کیے تھے تاہم گذشتہ ماہ ایم کیو ایم کی جانب سے ان مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے استعفے فی الفور قبول کیے جائیں کیونکہ حکومت ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں