کراچی سے حزب التحریر اور القاعدہ کا رکن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق حزب التحریر آئین اور طرز حکومت کو نہیں مانتی اور خلافت کا قیام چاہتی ہے

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس نے کالعدم حزب التحریر کے رکن محمد اویس اور القاعدہ برصغیر کے مبینہ رکن سعیداللہ عرف رضوان عرف چھوٹی دنیا کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مشتبہ کالعدم حزب التحریر کے رکن کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی محکمے کے ایس پی مظہر مشوانی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ محمد اویس کو بوٹ بیسن سے گرفتار کر کے اس کے قبضے سے قابل اعتراض پمفلٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

صفورا بس حملے کے ملزم کے اہم انکشافات

کراچی آپریشن میں 14 ہزار سے زیادہ ملزم گرفتار، 1172 ہلاک

انھوں نے بتایا کہ ملزم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے سے بھی وابستہ ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے این ای ڈی یونیورسٹی سے انجینیئرنگ اور آئی بی اے سے ایم بی اے کیا ہے۔

ملزم نے 2007 میں کالعدم حزب التحریر میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کی ذمہ داری شہر کے مہنگے علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن کی مساجد میں پمفلٹ تقسیم کرنا تھی۔

انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق حزب التحریر پاکستان کے آئین اور طرز حکومت کو نہیں مانتی اور خلافت کا قیام چاہتی ہے۔

Image caption کراچی میں گذشتہ دو برس سے امن و امان کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے

گرفتار ملزم اویس اور اس کے ساتھی پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس کالعدم تنظیم کے لیے غیر قانونی طور پر کام کرنے کے لیے اکساتے رہے ہیں اور ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اویس وائبر پر رابطے میں رہتا تھا اور اس کے دیگر ساتھی ملیر، لانڈھی اور ماڈل کالونی کے رہائشی ہیں۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی نے ایک اور کارروائی میں القاعدہ برصغیر کے مبینہ رکن سعیداللہ عرف رضوان عرف چھوٹی دنیا کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی جنید شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ملزم سے ایک کلاشنکوف اور دو دستی بم برآمد ہوئے ہیں، ملزم نوجوانوں کا برین واش کرنے کا ماہر ہے اور پولیس موبائلوں پر حملے میں بھی ملوث رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم بلوچستان سے سرحد عبور کرکے افغاسنتان کے علاقہ برامچہ گیا تھا جہاں اس نے جواد بھائی نامی شدت پسند سے تربیت حاصل کی تھی۔ حال ہی میں وہ وہاں سے اپنے دستے کے ساتھ واپس آیا ہے۔

اسی بارے میں