’بہت کچھ بدل گیا مگر غم آج بھی تازہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Masooma Malik
Image caption ’صرف ہمارا اور ساتھ کے دو گھر ہی کھڑے تھے اور اردگرد مکانات کی جگہ اب پتھروں کے ڈھیر تھے‘

یوں لگ رہا تھا جیسے کسی کھلے میدان میں ملبے کے ڈھیر کے بیچ کھڑے ہوں۔ وہی راستے جہاں سکول کا بستہ لٹکائے آتے جاتے تھے اور پھر کالج اور یونیورسٹی تک کے سفر میں جن کا ہر نشان یاد ہوچکا تھا آج اجنبی لگ رہے تھے۔

یک لخت سب کیسے بدل گیا؟ یہ سب کیا ہو گیا؟ خود سے یہ سوال کرتے آنسو بہاتے اور اپنی بہن کی خیریت کی دعائیں کرتی میں اپنی آنٹی اور کزنز کے ساتھ گرلز کالج کی جانب تیز تیز قدموں سے چلی جا رہی تھی۔

’کیچڑ سے چاول چنتے لوگ کیسے بھول سکتی ہوں‘

2005 کے زلزلے کی یادیں: ضمیمہ

یہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کی صبح تھی۔ چمکیلی زرد یا ویران سی یہ تو یاد نہیں مگر وہ دن کتنا بھاری اور وہ رات کتنی خوفناک تھی یہ آج بھی نہیں بھول سکی۔

اس صبح جب زلزلہ آیا تو نہیں معلوم تھا کہ میرے شہر مظفرآباد پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔

میرا گھر جہاں اس وقت صرف میں اور امی ابو ہی تھے زلزلے کے جھٹکوں سے بس کسی بھی لمحے گرنے کو تھا اور میں بس روتی چلاتی یہی کہے جا رہی تھی کہ ’امّی ہمارا گھر۔۔۔امّی ہمارا گھر۔‘

مگر کیا معلوم تھا کہ یہ گھر کیا یہ شہر بھی چھوڑنا پڑ جائے گا۔

زلزلہ کچھ تھما اور حواس کچھ بحال ہوئے تو دیکھا کہ باہر کی دیواریں گر چکی ہیں اور اندرونی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی تھیں۔

وہاں صرف ہمارا اور ساتھ کے دو گھر ہی کھڑے تھے اور اردگرد مکانات کی جگہ اب پتھروں کے ڈھیر تھے۔

امی ابو کو چھوڑ کر زمیں بوس ہوئی عمارتوں کے بیچ سے گزرتی میں پیدل اپنی بہن کے کالج کی جانب چل پڑی تھی۔ میں ہی کیا ہر کوئی اپنے پیاروں کی فکر میں بھاگا چلا جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Masooma Malik
Image caption یہ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کی صبح تھی۔ چمکیلی زرد یا ویران سی یہ تو یاد نہیں مگر وہ دن کتنا بھاری اور وہ رات کتنی خوفناک تھی یہ آج بھی نہیں بھول سکی

سکول اور کالج کے بچے بچیاں ٹوٹے بازو تھامے روتے اپنے اپنے گھروں کی جانب جا رہے تھے اور کیا معلوم انہیں اپنا گھر اور گھر والے ملے بھی یا نہیں۔

مجھے تو بس اپنی بہن کی فکر تھی۔ یونیوسٹی کے پاس پہنچے تو کالج کی کچھ لڑکیاں دکھائی دیں۔ فوراً ان کی جانب لپکی اور پوچھا ’ کالج میں کیا ہوا سب صحیح ہے نا؟ ہچکیوں کے بیچ جواب ملا ’سب ختم ہو گیا۔ عمارت گر گئی۔‘

’میری سہیلیاں نہیں ملیں۔‘ ایک اور آواز بھی شامل ہوئی۔ ’وہ سب وہی تھیں اور کوئی بھی ملبے سے سے باہر نہیں آئی۔‘

کچھ دیر تلاش کے بعد مجھے بہن تو مل گئی لیکن یہ تو ابتداء تھی، دن کا آغاز تھا۔ شام ہونے تک تو ہر خبر موت ہی کی آئی۔ خالو چل بسے، ننھے کزن کی سکول کے بہت سے دوسرے بچوں کی طرح بس لاش ہی گھر پہنچی اور اس کی ماں اسے دیکھ بھی نہیں پائیں کیونکہ وہ تو خود زخموں سے چور یونیوسٹی گراؤنڈ میں بے ہوش پڑی تھیں۔

اسلام آباد سکول کے پاس سے گزرتے ہوئے جو منظر دیکھا وہ تو دل دہلا دینے والا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی عمارت کی اوپر کی منزل سے لٹکتے بچوں کے جسم اور روتے چلاتے والدین جن میں ابو کے ایک دوست بھی تھے۔

وہیں سے گزرتے ہوئے سی ایم ایچ کے سامنے واقع بوسیدہ سی ریڈیو کالونی کی جانب دوڑی۔ مگر وہاں بھی اب کچھ بھی نہیں تھا، بس پتھروں کا ڈھیر لگا تھا۔

میری نظریں اپنی بہنوں جیسی دوست کو ڈھونڈ رہی تھیں جسے دیکھ کر پہلی نظر میں تو پہچان ہی نہیں پائی۔

میرا پہلا سوال تھا ’بچے کہاں ہیں؟ جواب میں اس نے ایک ڈھیر کی جانب اشارہ کیا اور نخیف سی آواز میں بس اتنا ہی کہہ پائی ’پلیز کچھ کرو۔۔۔۔میرے بچے۔۔کوئی مدد کر دے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Masooma Malik
Image caption آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کی صبح آنے والے زلزلے سے مظفرآباد میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی

یہ وہ آواز ہے جو آج بھی کانوں میں گونجتی ہے اور ان آنکھوں کی بے بسی آج بھی نہیں بھولتی۔ وہ پھول سے بچے اسے زندگی بھر کا دکھ دے کر چلے گئے۔

زلزلے کے جھٹکے آتے رہے اور ہم اپنے لرزتے گھر سے کبھی گرم کپڑے اور کبھی بستر اٹھا کر بھاگتے رہے تاکہ لوگوں کی کچھ تو مدد ہو۔

پہلی رات آئی تو اس کا سناٹا خوف کو مزید گہرا کر گیا۔ چیخوں کی آوازیں کانوں سے ٹکراتیں تو دل دہل جاتا تھا۔

ایسے میں لاشوں اور زخمیوں کے بیچ رات کھلے آسمان تلے رات گزارنے والوں پر طوفانی بارش بھی برسنے لگی۔ گھر سے لائے بستروں میں سے ہمارے حصے میں صرف تکیے ہی آئے تھے جن سے سر ڈھانپے، سردی سے کپکپاتے ہم رات جلد بیتنے کی دعائیں کرتے رہے۔

اس رات یاد ہے نہ جانے کون لوگ تھے جو کچے پکے چاول لے کر آئے تھے اور سب نے سوغات سمجھ کر کھائے تھے۔

زلزلے نے بہت سے پیارے رشتے چھین لیے تھے۔اور ہماری طرح بہت سوں کو گھر سے بے گھر کر دیا تھا۔

تعفن، لوٹ مار، خوف اس سب نے ہمیں بھی اپنا شہر اپنی جنت چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ایک لٹے پٹے قافلے میں ہم بھی اسلام آباد آ گئے جہاں مہینوں ایسی بہت سی دکھی کر دینے والی خبریں آتی رہیں۔

آج اس خوفناک زلزلے کو دس سال بیت گئے ہیں اور ان دس سالوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ مظفرآباد شہر میں زندگی پھر سے لوٹ آئی ہے مگر پیاروں کے بچھڑنے کا غم آج بھی تازہ ہے۔

اسی بارے میں