’نظریاتی ضربِ عضب کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی اپیل مسترد کیے جانے اور سزائے موت برقرار رکھے جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد سے پاکستانی سوشل میڈیا پر دو ٹرینڈز نمایاں ہیں: ایک ممتاز قادری اور دوسرا آئی ایم سلمان تاثیر۔

تاہم سزائے موت کی مخالفت کرنے والے افراد اس فیصلے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں جن میں آصفہ بھٹو زرداری شامل ہیں جنھوں نے لکھا: ’بالآخر تاثیر خاندان کو انصاف ملا۔ میں سزائے موت کےخلاف ہوں، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ممتاز قادری کو ساری عمر جیل میں سڑنا چاہیے۔‘

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے لیے کام کرنے والے مصطفیٰ قادری نے ٹویٹ کی کہ ’مجھے ایک بات صاف صاف سمجھائیں کہ کیا ممتاز قادری کی پھانسی دوسرے شدت پسندوں کو روک پائے گی جو حیات بعد الموت پر یقین رکھتے ہیں؟‘

سزائے موت پر بحث تو ایک عرصے سے جاری ہے، لیکن اب اس پر از سرِ نو تقسیم نظر آ رہی ہے۔ بہت سے لوگ جو سزائے موت کے خلاف ہیں وہ ممتاز قادری کی پھانسی کے حق میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔

زبیر نے ٹویٹ کی کہ ’ممتاز قادری کی موت کا فیصلہ ایسے لوگوں کے نقطۂ نظر پر سوالیہ نشان لگاتا ہے جو سزائے موت کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر اس کی حمایت نہیں کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

نعمان نے لکھا کہ ’اگر کسی نے ایک قاتل کو مارا تو وہ ایک قاتل تو مر جائےگا مگر اس سے ایک اور قاتل جنم لے گا۔‘

اقبال حیدر بٹ نے لکھا ’کہ اگر لوگ منصف بن کر قانون کو ممتاز قادری کی طرح اپنے ہاتھ میں لیں گے تو ایک دن اس ملک میں 40 کروڑ ہاتھ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوں گے۔‘

یاسر لطیف ہمدانی نے ٹویٹ کی کہ ’ممتاز قادری کی سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ منطق اور آئین کی فتح ہے۔‘

محمد رفیع نے لکھا ’ممتاز قادری کے حمایتیوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو قدامت پسندی کی سوچ سے ہٹانے کے لیے ایک نظریاتی ضربِ عضب کی ضرورت ہے۔ جنگ کے فوائد تو محدود ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں