’سب جھوٹے وعدے کرتے ہیں، ہوتا کچھ نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مظفر آباد کا شہید بشیر کیمپ اس پہاڑی کے دوسری طرف واقع ہے، جو زلزلے کے باعث کٹ کر گر گئی تھی اور اس کیمپ میں جو افراد رہتے ہیں وہ خود بھی بٹے ہوئے ہیں۔

یہ لوگ ان خاندانوں کا حصہ ہیں جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تقریباً 25 برس قبل آئے تھے۔

پاکستانی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلے کے دس سال بعد

ڈھائی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی یہ لوگ ابھی تک دربدر ہیں۔ لگ بھگ 800 سے زیادہ خاندان مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں 10 خیمہ بستیوں میں مفلسی اور محتاجی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت انھیں ہر مہینے فی فرد 15 روپے دیتی ہے۔ شہید بشیر کیمپ کی زمین بھی کرائے کی ہے، جس کا کچھ حصہ حکومت ادا کرتی ہے۔

یہاں فلاحی تنظیموں سے حاصل کیے گئے فائبر گلاس اور خود سے جمع کی گئی لکڑی سے عارضی گھر بنے ہوئے ہیں اور پردے کا انتظام چادریں لگا کر کیا گیا ہے۔

20 افراد پر مشتمل دو خاندان چھوٹے سے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں اور بچے ننگے پاؤں پھرتے نظر آئے۔

کیمپ کے صدر عبدالقیوم ان حالات سے دلبرداشتہ اور ناراض دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سب جھوٹے ہیں۔ سب وعدے کرتے ہیں مگر کچھ نہیں ہوتا۔‘

اس کیمپ کے دیگر پناہ گزینوں کے ساتھ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے کیرن اور کپواڑہ سیکٹر سے 1990 میں آئے تھے جہاں وہ سرکاری ملازم تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption لگ بھگ 800 سے زیادہ خاندان مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں 10 خیمہ بستیوں میں مفلسی اور محتاجی کی زندگی گزار رہے ہیں

انھوں نے کہا جب آٹھ اکتوبر کو زلزلہ آیا تو اس وقت اس کیمپ کے 305 افراد مارے گئے۔ وہ خود اس وقت ایک اور مقام پر کچے مکانات میں رہ رہے تھے۔

عبدالقیوم کے تین بچے بھی زلزلے میں ہلاک ہوئے انھوں نے کہا ’ہمیں ایسے لگا تھا جیسے دنیا ختم ہوگئی ہے۔‘

دیگر متاثرین کی طرح وہ بھی خیمہ بستیوں میں آئے اور جبکہ باقی متاثرین یہاں سے چلے گئے، یہ پناہ گزین آباد کاری کے انتظار میں رہے ۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ بحالیات عبدالماجد خان تسلیم کرتے ہیں کہ ان پناہ گزینوں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ تکمیلِ پاکستان کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اپنا گھر بار اور مال چھوڑ کر یہاں آئے۔‘

عبدالماجد خان کے مطابق ’انھوں نے نہ صرف زلزلہ دیکھا بلکہ یہ 1992 اور 2010 کے سیلاب کے متاثرین بھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ان پناہ گزینوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔‘

مظفرآباد سے کچھ دور ٹھوٹہ کے مقام پر سعودی عرب اور اسلامی فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان کے لیے مکانات بنائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ بحالیات عبدل ماجد خان تسلیم کرتے ہیں کہ ان پناہ گزینوں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے

لیکن زلزلے کے دس برس بعد بھی لگ بھگ 70 ہی گھر بن پائے ہیں جبکہ آباد کاری کے منتظر خاندانوں کی تعداد 800 سے زیادہ ہے۔

پناہ گزینوں کی یہ شکایت بھی ہے کہ یہ گھر پنجروں کی مانند چھوٹے چھوٹے ہیں۔

مقامی یونی ورسٹی کے احاطے میں واقع پناہ گزینوں کے ایک اور کیمپ کے رہائشی غلام مرتضیٰ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارا چھ چھ افراد پر مشتمل خاندان ہے، ہم وہاں کیسے رہ سکتے ہیں؟‘

تاہم، وزیرِ بحالیات عبدالماجد خان کہتے ہیں کہ ان گھروں کے ڈھانچے پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ان کا نقشہ تو غیر سرکاری تنظیموں نے بنایا تھا۔

انھوں نے کہا ’بہرحال ہم نے ان تنظیموں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے نقشے بدلنے کی بات کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ تمام پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے لیے حکومت کے پاس سرکاری زمین بہت کم ہے۔

جب میں نے شہید بشیر کیمپ کے عبدالقیوم سے پوچھا کہ جن حالات میں وہ زندگی گزار رہے ہیں ان کے مقابلے میں کیا آزادی بہتر ہے یا وہ خوف جس کا سامنا انھیں مبینہ طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں تھا؟

انھوں نے کہا ’بہتری کہاں ہے؟ پتنگے کو سکون اپنی جگہ پر ہی ملتا ہے۔ ہم اپنے رشتہ داروں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ جس تحریک کو ہم لے کر آئے تھے، وہ تو ادھوری ہے۔‘

اسی بارے میں