بالاکوٹ کے شہری ابھی بھی فالٹ لائن پر رہ رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption زلزلے کے بعد بالاکوٹ کے متاثرین دس دس فٹ کے عارضی شیلٹروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ میں 10 سال پہلے زلزلے کے بعد سے ایک بڑی آبادی ایسے عارضی شیلٹروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس میں دس دس فٹ کے صرف دو کمرے ہیں۔ ان شیلٹرز میں پانچ سے 15 افراد پر مشتمل خاندان آباد ہیں۔

بالاکوٹ میں 10 سال پہلے آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں لگ بھگ نوے فیصد مکان تباہ ہو گئے تھے۔ بالاکوٹ میں اس وقت کل مکانات کی تعداد تقریباً 40 ہزار تھی ۔زلزلے سے اس شہر میں 18 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

’چابیاں تو مل گئیں، گھر ملنے کا انتظار ہے‘

زلزلے کے 10 برس بعد بھی صحت اور تعلیم کی مکمل بحالی کا انتظار

بالاکوٹ شہر اسی جگہ آباد ہے جہاں اس شہر کو اب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پرانا بالاکوٹ جہاں واقع ہے وہ جگہ زلزلے کی فالٹ لائن پر ہے اور 10 سال پہلے حکومت نے یہاں سے کوئی 30 کلومیٹر دور ایک نیا بالاکوٹ شہر آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اس نئے بالاکوٹ کے منصوبے کے لیے زمین بھی خریدی گئی کام بھی کسی حد تک شروع ہوا لیکن لوگوں کو وہاں آباد نہیں کیا جا سکا ۔ پرانے بالاکوٹ میں زلزلے کے بعد نئے مکان بھی تعمیر ہوئے ہیں اور کاروبار زندگی بھی جاری ہے لیکن لوگوں میں سخت بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بالاکوٹ میں 10 سال پہلے آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں لگ بھگ نوے فیصد مکان تباہ ہو گئے تھے

بالاکوٹ شہر کے بڑے بازار میں لوگوں سے ان کا حال کیا پوچھا گیا وہ تو جیسے غبار لیے بیٹھے تھے، ایک سے بڑھ کر ایک مقرر اور ہر ایک کے پاس اپنے علاقے کے تمام اعداد و شمار موجود تھے۔ طاہر خان نے بتایا کہ ان کے لیے جو نیا شہر آباد ہونا تھا اس پر کام کیا گیا اور فنڈز بھی منظور ہوئے لیکن وہ فنڈز کہاں گئے کچھ معلوم نہیں۔ یہ لوگ ان ہی دو کمروں کے شیلٹرز میں رہ رہے ہیں جو بوسیدہ ہو چکے ہیں۔

ایک بزرگ خان زمان آگے آئے اور بولے کہ ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے اب خیبر پختونخوا کے گورنر ہیں ، یہاں سے اراکین اسمبلی اور سینیٹ کے ممبرز ہیں لیکن ایرا کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔

پانچ ہزار سے زیادہ عارضی مکان یا شیلٹرز زلزلے سے متاثرہ افراد کا مستقل ٹھکانہ بن چکے ہیں۔۔ ۔ بیگم جان ستر سالہ بزرگ خاتون ہیں جو اپنی ایک اپاہج پوتی سمیت تین بچوں کے ساتھ اس عارضی شیلٹر میں رہتی ہیں۔

بیگم جان نے کہا کہ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے انھیں کوئی پلاٹ بھی نہیں دیا گیا لوگ گھر میں آکر مدد کر دیتے ہیں ورنہ وہ خود باہر نہیں جا سکتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بالاکوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر بالاکوٹ شاہد محمود کہتے ہیں کہ اب کچھ عرصے سے بالاکوٹ شہر میں کچھ کام شروع ہوا ہے وگرنہ دس سالوں میں تو یہاں کوئی کام ہوا ہی نہیں تھا

مقامی صحافی ڈاکٹر فرید کہتے ہیں کہ یہاں اربوں روپے کے فنڈز جاری ہوئے لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ لگ بھگ 22 ارب روپے ایرا کو زمین اور 14 ارب روپے تعمیرات کے لیے دیے گئے لیکن کچھ کام نہیں ہوا کوئی پانچ ہزار دو سو سے زیادہ افراد کو جنھیں پلاٹ کے کاغذات جاری کرنے تھے وہ کام بھی نہیں ہو سکا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضرور ہوا ہے کہ کچھ پہلے سے تیار شدہ مکان اور سکول ضرور بنے ہیں۔

بالاکوٹ شہر میں زلزلے سے بچاؤ کی تعمیرات تو دور کی بات یہاں دس سالوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر بالاکوٹ شاہد محمود کہتے ہیں کہ اب کچھ عرصے سے بالاکوٹ شہر میں کام شروع ہوا ہے وگرنہ دس سالوں میں تو یہاں کوئی کام ہوا ہی نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ایسے اجلاس ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت اب لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور انھیں یقین ہے کہ بہت جلد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن اس وقت ان کے کام رک جاتے ہیں جب لوگ عدالتوں سے رجوع کر لیتے ہیں۔

نیو بالاکوٹ سٹی یا بکریال آٹھ سو کنال پر محیط علاقہ ہے۔ جہاں پانچ سیکٹر قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں دو سیکٹروں میں تو کچھ ترقیاتی کام ہوئے ہیں لیکن تین سیکٹروں میں کوئی کام نہیں ہوا۔ فنڈز بھی لگائے گئے اور پھر کام بند کر دیا گیا۔ اس ٹاؤن میں مشینری خراب پڑی ہے اور جو کام ہوا تھا وہ بھی ضائع ہوگیا ہے ۔

پرانے بالاکوٹ شہر میں زلزلے سے تباہی کے آٰثار اب بھی نمایاں ہیں۔ ان دس سالوں میں لوگوں کے لیے نہ پرانا شہر بسا اور نہ ہی نیا بالا کوٹ بن سکا۔

اسی بارے میں