’چابیاں تو مل گئیں، گھر ملنے کا انتظار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ eq
Image caption نسیم بی بی دس سال سے ہسپتال میں مقیم ہیں

’صہبا مشرف آئیں تھیں، یہ چابیاں دے گئیں اور کہا تھا کہ جن جن کو چابیاں ملی ہیں انھیں گھر ملیں گے۔‘

25 سالہ نسیم کی زندگی اور مستقبل کی امید ایک چابی سے وابستہ ہے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک دور افتادہ علاقے سے ہے۔ سنہ 2005 میں جب زلزلہ آیا تو ان کی عمر 15 برس تھی۔

زلزلے سے آنے والی تباہی

پاکستانی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلے کے دس سال بعد

تب ان کے خواب صرف شادی، کپڑے، جوتے اور چوڑیاں ہوا کرتے تھے۔ مگر آج چوڑیوں کی کھنک کے بجائے وہ چابیوں کی کھنک سے اپنا دل بہلاتی ہیں۔ اس امید پر کہ شاید کبھی کوئی انھیں کسی ایسے دروازے تک لے جائے گا جس کا تالا اسی چابی سے کھلتا ہو، اور ان کے بچے کھچے خوابوں کو تعبیر مل سکے۔

مگر نسیم نے نہ تو کبھی وہ گھر دیکھا نہ انھیں اس کی کوئی خبر ملی۔

وہ کہتی ہیں: ’جب چابیاں ملی تھیں تو ہم اتنے خوش ہو رہے تھے کہ گھر ملے گا۔ جب کسی نے پوچھا ہی نہیں تو امید ہی ٹوٹ گئی۔ سب کہتے کہ گھر مل گیا؟ چابیاں تو ہمارے پاس ہی رکھی ہوئی ہیں۔‘

انھوں نے دس سال سے یہ چابیاں سنبھال کر رکھی ہیں۔ نسیم کو زخمی حالت میں اسلام آباد لایا گیا تھا۔ یہاں ان کا علاج تو ہوا مگر وہ پھر کبھی اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہ ہو سکیں۔ گھر والے بھی ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

’ایک بیمار بھائی ہے، اور بہن نہیں اور کوئی بھی نہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ بھابیاں کیسی ہوتی ہیں۔‘

نسیم گذشتہ دس سالوں سے اسلام آباد میں قائم معذوروں کے ایک سرکاری ہسپتال میں رہ رہی ہیں جہاں ان کا علاج بھی ہوتا رہا تھا۔ اب یہی ہسپتال اور ان کی ویل چیئر ہی ان کا سہارا ہے۔ اپنے گھر کی امید بھی اب دم توڑ گئی ہے۔ انھیں کشمیر کی حکومت سے بھی بہت سے شکوے ہیں۔

’ہمارے لوگ تو پوچھتے بھی نہیں کہ مریض ہے یا کتا پڑا ہوا ہے۔ سچ بات بتاؤں تو کوئی ذکوٰۃ بھی نہیں دیتا۔ جو دس دس مزدوریاں کرتے ہیں انھیں ذکوٰۃ بھی مل رہی ہے اور فنڈز بھی۔‘

Image caption راولا کوٹ کی گلناز پیسے کمانے کے لیے ہسپتال میں کپڑے سیتی ہیں تاکہ اپنے لیے گھر لے سکیں

نسیم اور زلزلے سے متاثرہ ان جیسی کئی لڑکیاں بھی اسی ہسپتال میں زیر علاج رہی تھیں۔

ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل مولا نے بتایا: ’ہمارے پاس ایسی کئی خواتین آئی تھیں۔ تقریباً 15 اب بھی یہاں ہیں جن کا علاج مکمل ہو چکا ہے اور وہ ہسپتال کوصرف پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔‘

راولا کوٹ کی گلناز بھی دس سال سے یہاں مقیم ہیں۔ وہ کبھی کبھی گھر بھی چلی جاتی ہیں مگر ویل چیئر پر اونچے نیچے پہاڑی راستوں پر کیسے جائیں۔ ان کے لیے اب یہ صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ ان کا گھر بن چکا ہے۔

وہ یہاں کپڑے بھی سیتی ہیں تاکہ اپنے لیے کچھ کما سکیں اور پیسے جمع کر کے ایک چھوٹا سا گھر بنا سکیں جو ان کا اپنا ہو۔

انھوں نے کہا: ’ہم بھی چاہتے ہیں کہ اچھی سی رہائش ہو۔ یہ تو ہسپتال ہے، ہم کب تک یہاں رہ سکتے ہیں۔ امیدیں تو بہت لوگ دیتے رہے۔ وزیر وغیرہ آتے رہے، بہت کچھ کہتے رہے مگر کیا کچھ بھی نہیں۔‘

ان خواتین سے بہت سے وعدے کیے گئے تھے جو کبھی وفا نہ ہوئے۔ ڈاکٹر فضل مولا نے بتایا کہ انھوں نے کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم سردار عتیق کو خط لکھ کر ان کی حالت کے بارے میں بتایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ہسپتال میں مقیم معذور خواتین ان جیسی چابیوں کے سہارے رہ رہی ہیں جو انھیں نئے گھر کی امید دیتی ہیں

انھوں نے کہا: ’وہ یہاں خود آئے اور ہر لڑکی کے لیے دس دس لاکھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے ایک ٹیم بھیجی تھی جس کے ساتھ بہت سی لڑکیاں چلی گئیں مگر بدقسمتی سے ابھی بھی 12 سے 15 خواتین یہاں رہ رہی ہیں جن کے بارے میں کشمیر کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ اور دس لاکھ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔‘

یہی شکوہ جب سردار عتیق کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے ایسے کسی وعدے کی حقیقت سے ہی انکار کر دیا۔

انھوں نے کہا: ’یہ بالکل ہو سکتا ہے کہ کسی اور حکومت نے کیا ہو یا ممکن ہو میری اپنی کہی بات پوری نہ ہوئی ہو لیکن اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔ کوئی بات بے خیالی میں نکلی ہو۔ مجھے بالکل بھی یاد نہیں کہ ایسا کوئی وعدہ کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کسی آڈیو ویڈیو یا کسی بھی رپورٹ میں ایسے کسی وعدے کی بات نہیں ملے گی۔ تاہم بقول ان کے کسی مطالبے کے بغیر ہی اس وقت انھوں نے اسلام آباد پنڈی کے تمام بڑے ہسپتالوں میں لاکھوں روپے رکھے تھے، تاکہ آزاد کشمیر کا کوئی بھی شہری شناختی کارڈ لے کر آئے تو اس کا علاج کیا جائے۔

نسیم اور ان جیسی دوسری لڑکیاں جن کی زندگی میں یہ چابیاں امید کی کرن لائی تھیں کیا کبھی ان وعدوں کو حقیقت میں بدلتا دیکھ پائیں گی؟

اسی بارے میں