’سارے احساسات پھر سے زندہ ہوگئے‘

بی بی سی اردو کی نامہ نگار تابندہ کوکب گیلانی پاکستانی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلے کے دس سال بعد پہلی بار اس گاؤں میں گئیں جہاں وہ آٹھ اکتوبر 2005 کو یعنی زلزلے کی صبح موجود تھیں۔ یہاں ان کے اس سفر کی کہانی پیش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tabinda Kokab
Image caption زلزلے کے نتیجے میں کارکہ کے اس سکول کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی تھی

میں نے دس سال اس خوف میں گزار دیے کہ جب پھر سے ان راستوں پر قدم رکھوں گی تو وہی درد، وہی اذیت اور نہ ختم ہونے والا خوف مجھے گھیر لے گا۔

میں جانتی تھی کہ بظاہر جتنی بھی مضبوط دکھائی دوں لیکن میری آنکھیں اکتوبر 2005 کے مناظر آج بھی بھول نہیں پائیں لیکن بالآخر میں نے اس جگہ جانے کا فیصلہ کر لیا جہاں دس سال پہلے میں نے اپنے سامنے درجنوں بچوں کو سکول کی عمارت میں دبے اور اپنے ارد گرد لاشیں اور زخموں سے چور لوگ دیکھے تھے۔

’دل کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہے‘

بہت کچھ بدل گیا مگر غم آج بھی تازہ ہے

میری توقع کے بر عکس کارکہ نامی گاؤں تک جانے والی سڑکیں اب کشادہ ہیں۔ زلزلے کے بعد جن راستوں پر واپسی کا سفر پیدل چل کر نوگھنٹوں میں طے کیا تھا اب 15 منٹ میں طے ہو گیا۔

ہر مقام اپنی ہر یاد کے ساتھ میرے ذہن میں محفوظ تھا۔ کہاں میرا پیر پھسلا تھا، کہاں میں نے کوئی مکان مٹی کے تودے تلے دبے دیکھا، کہاں کسی گاڑی کے کھائی میں دکھائی دیے جانے کا شور مچا تھا، کہاں راستے مسدود ہونے پر پہاڑوں اور کھائیوں کی کٹھن ڈھلانوں سے اترنا پڑا، کہاں اوپر سے آنے والے پتھروں اور پھسل کر دریا میں گر کر مرنے کا خوف حد سے گزر گیا تھا، کہاں میرا ضبط ٹوٹا اور میں پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ میں ہر جگہ کی تفصیل اپنے شوہر کو بتا رہی تھی جو پہلی مرتبہ میرے ساتھ وہاں جا رہے تھے۔

کہوڑی کے مقام سے گزرتے ہوئے میں نے اپنے شوہر کو بتایا تھا ’یہاں ایک ہیلی کاپٹر زخمیوں کو لینے آیا تھا مگر نیچے اترنے کی جگہ نہیں تھی اس لیے زخمیوں کو پہاڑ پر لے جانا پڑا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Tabinda Kokab
Image caption تابندہ کوکب 2005 میں زلزلے کے وقت کارکہ کے سکول میں استاد تھیں

جس جگہ سکول تھا وہاں پہنچی تو جگہ پہچاننے میں وقت نہیں لگا۔ ہاں جو نسبتاً چھوٹا اور کچا راستہ اوپر کو جا رہا تھا اب ایک کشادہ سڑک کی شکل اختیار کر چکا تھا اور جہاں بمشکل موٹر سائیکل جاتی تھی اب بسیں چل رہی تھیں۔

سامنے کا پہاڑ جہاں بہت بڑی لینڈ سلائیڈ میں کئی مکان دب گئے تھے وہاں اب سبزہ اور درخت تھے لیکن میں ان کے نیچے پہاڑ کی اونچی نیچی سطح پر لینڈ سلائیڈنگ کے آثار کو اب بھی واضح دیکھ سکتی تھی۔

تھوڑا اوپر جانے پر وہ جگہ آگئی جہاں خود ملبے سے نکلنے کے بعد میں کھڑے ہو کر اس حادثے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہاں سے اوپر سکول کو جانے والا کچا راستہ آج بھی ویسا تھا۔ سامنے لگا بڑا سا گیٹ بھی وہی تھا۔ میں اوپر گئی تو اندر جانے پر دیکھا وہاں موجود عمارت اب ویسی نہیں تھی۔

سکول اب وہاں سے منتقل ہو گیا تھا۔ وہاں اب ایک گھر بن چکا تھا جس کا نقشہ بھی تبدیل کر دیا گیا تھا مگر میں کچھ لمحوں تک دروازے پر کھڑی ہو کر صحن کے اس پار میں اپنے اسی پرانے سکول کا تصور کرتی رہی جہاں میرے سامنے بچے صبح کی دعا کر رہے تھے۔

وہ مقام جہاں میں نے پانچ راتیں قالین اور پلاسٹک شیٹوں سے بنے خیمے میں گزاریں، وہ بھی ویسا نہیں رہا تھا۔ ان تمام جگہوں پر بہت سارے پکے گھر بن چکے تھے۔ ہاں اگر کوئی جگہ اپنی پہلی سی حالت میں تھی تو وہ جگہ تھی جہاں میں نے آٹھ اکتوبر زلزلے کی پہلی رات کاٹی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tabinda Kokab
Image caption سبزے اور درختوں کے نیچے پہاڑ کی اونچی نیچی سطح پر لینڈ سلائیڈنگ کے آثار اب بھی واضح تھے

زلزلے کے جھٹکوں، بارش، ژالہ باری، ایک دم ہونے والی سردی، عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار سارے احساسات جیسے پھر سے زندہ ہوگئے۔ میں خود پر بمشکل قابو پاتے ہوئے وہاں کے لوگوں سے مل رہی تھے جن کی اکثریت مجھے پہچان گئی تھی۔

ہر کوئی میرے اتنے برسوں بعد آنے پر حیران تھا۔ میرے اکثر شاگرد یا تو مظفرآباد میں زیرِ تعلیم تھے یا اس علاقے سے منتقل ہو گئے تھے۔

میری جماعت کی وہ سات سالہ بچی جو زلزلے کے چند لمحوں بعد میرا پرس لیے میرے سامنے کھڑی تھی آج نوجوان ہو کر میرے سامنے تھی۔ وہ فرطِ جذبات سے کبھی ہنسنے لگتی اور کبھی آبدیدہ ہو جاتی۔ اسے اس دن کا ایک ایک لمحہ یاد تھا۔ کہنے لگی مجھے یقین تھا آپ ایک دن یہاں ضرور آئیں گی۔

اس گاؤں کے لوگوں نے جن کے لیے میں یکسر اجنبی تھی مجھے زلزلے کے بعد پانچ دن تک اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ میں وہاں اجنبی ہوں۔ وہ تمام اب بھی اسی خلوص اور محبت سے ملے۔

سکول کے تمام اساتذہ بدل چکے ہیں۔ پرانے لوگ دوسری جگہوں پر ملازمت کر رہے تھے۔ اب وہ سکول مڈل تک ہے اور تمام بچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ سکول کی عمارت اب اس طرز پر بنائی گئی ہے کہ زلزلے میں منہدم نہ ہو۔ چھت کنکریٹ کے بجائے ٹین کی چادروں سے بنی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tabinda Kokab
Image caption سکول کی نئی عمارت اس طرز پر بنائی گئی ہے کہ زلزلے میں منہدم نہ ہو

میں ان سب کے سے مل کر واپس مظفر آباد آ رہی تھی اور سوچ رہی تھی وقت نے اس سانحے کے بظاہر تمام نشانات ختم کر دیے ہیں۔

کئی لوگ پہلےسے زیادہ خوشحال بھی ہو گئے ہیں لیکن اب بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو اس خوف سے نکل نہیں پائے۔

یہ خوف اور درد ان لوگوں نے اپنے اندر چھپا رکھا ہے اور اگر کوئی انھیں برسوں بعد بھی کریدے تو یہ اسی پہلے دن کی طرح بکھرنے لگتے ہیں۔

اسی بارے میں