نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

Image caption پشاور کے محمد علی جوہر روڈ پر اس سے قبل بھی کئی اہلِ تشیع افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آج نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ اپنی بچیوں کو سکول لے جا رہے تھے۔

شدت پسند کمزور مگر بدستور موجود

پولیس تھانہ عبدالرازق کے اہلکار حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک جرار علی حیدر آج صبح قصہ خوانی بازار سے ہوتے ہوئے جب محمد علی جوہر روڈ پر پہنچے تو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ انھیں ایک ہی گولی لگی جبکہ ان کی بچیاں موٹر سائیکل سے گرنے سے زخمی ہو گئیں۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے اور پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تقریباً دو سے تین ہفتے پہلے اندرون پشاور میں ایک قلفی فروش قیصر رضا کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

شیعہ رہنما اخونزادہ مظفر نے بی بی سی کو بتایا جس مقام پر جرار علی حیدر کو نشانہ بنایا گیا اس مقام پر اس سے پہلے بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد علی جوہر روڈ کے اسی علاقے میں اس سے پہلے تنظیم مومنین پاڑہ چنار کے رہنما گلاب حسین طوری کو قتل کیا گیا تھا۔ اسی طرح تحریک جعفریہ کے رہنما علی اصغر جیو کو بھی اسی علاقے میں مارا گیا جبکہ ایک بینک افسر صفدر عباس کو بھی اسی علاقے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

اخوانزادہ مظفر کے مطابق انھوں نے پولیس اور انتظامیہ سے بارہا کہا کہ یہ علاقہ حساس ہے اور اس جگہ پر حفاظتی انتظامات بہتر کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے آج جرار علی حیدر کے قتل کے بعد نعرہ بازی بھی کی اور موقعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

محرم سے پہلے پشاور سمیت مختلف علاقوں میں حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن بھی کیے گئے ہیں ان میں پشاور مردان اور کوہاٹ کے علاقے شامل ہیں۔

پشاور میں محرم کے دوران حساس علاقوں میں پولیس اور دیگر اداروں کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی جبکہ عاشورہ سے چار روز پہلے اندرون پشاور شہر کو سیل کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں